نیویارک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کے ادارے کی سربراہ مشل بیچلٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجوں نے، ہو سکتا ہے کہ غزہ میں حکومت کرنے والے عسکریت پسند گروپ حماس کے خلاف گیارہ روزہ حالیہ لڑائی میں، جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہو۔انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہلاکت خیز تشدد کے تازہ ترین دور میں فوجی اقدامات کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کی بھی اجازت دے۔
ادھر مشرق وسطی کے تنازعہ کے تناظر میں یورپی ملک آئرلینڈ کی پارلیمنٹ نے اسرائیل کے خلاف ایک متفقہ مذمتی قراردار منظور کی ہے جس میں فلسطینیوں کے علاقوں پر اسرائیل کے کنٹرول کو ’ درحقیقت قبضہ‘ قرار دیا ہے۔انسانی حقوق کی رہنما مشل بیچلٹ کا بیان ایسے وقت میں آ یا ہے جب انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے سب سے بڑے ادارے نے غزہ، مغربی کنارے اور ییروشلم میں انسانی حقوق کی انتہائی خراب صورت حال کے جائزے کے لیے ایک دن کا اجلاس منعقد کیا۔
مشل بیچلٹ نے اس اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ حماس کی جانب سے راکٹوں کا اندھا دھند استعمال بھی جنگی اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی کمشنر نے کونسل کو سال 2014 کے بعد غزہ میں ہونے والی شدید ترین لڑائی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
جنگ بندی سے قبل یہ لڑائی غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور اموات کا سبب بنی ہے۔گیارہ روزہ لڑائی میں غزہ میں 248 افراد شہیدہوئے جن میں 66 بچے اور 39 خواتین بھی شامل ہیں۔ اسرائیل میں بھی 12 افراد حماس کے راکٹوں کے باعث جہنم رسیدہوئے ، جن میں دویہودی بچے بھی شامل تھے۔



