اسلامی آثار و نشاں پر فسطائیوں کی نظر بد لگ گئی
متھرا، 17 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گیانواپی مسجد کے بعد اب متھرا شری کرشنا کی جائے پیدائش سے متصل شاہی عیدگاہ مسجد کو سیل کرنے اور وہاں بھی سروے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔متھرا کی سول کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے۔ قانون کے طالب علم اور وکیل نے یہ عرضی دائر کی ہے اور اس کی فوری سماعت کی درخواست بھی کی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ہندؤں کے مندروں میں پائے جانی والی اشیاء جیسے سواستیکا، کمل کا پھول، سانپ، گھنٹی، کلش، اور دیگرہندو مذہبی نشانات کے ثبوت کاشی کے گیان واپی میں ملے ہیں۔
اسی طرح کے ثبوت شاہی عیدگاہ میں بھی موجود ہیں۔ انہیں فوری طور پر ثبوت کے طور پر محفوظ کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ قابضین (مسلمان) انہیں ضائع کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی کچھ مبینہ طور پر مذہبی نشانات کو تباہ کر چکے ہیں۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سب سے پہلے مرکزی جگہ پر مبینہ طور پر قبضہ کرکے بنائی گئی مسجد میں کسی کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے اور احاطے کو سیل کرکے حفاظتی انتظامات مزید سخت کیے جائیں۔ ان انتظامات کے لیے متھرا کے ضلع مجسٹریٹ، ایس ایس پی اور سی آر پی ایف کمانڈنٹ کو ہدایت دی جانی چاہیے۔ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت کو یکم جولائی کی بجائے جلد سماعت کرنی چاہیے تاکہ احاطے کے تحفظ کے لیے احتیاطی قانونی اور انتظامی انتظامات بروقت کیے جا سکیں۔



