بین الاقوامی خبریں

کیپٹل ہل پر حملے کے دوران پولیس اہلکاروں کے باعث جمہوریت برقرار رہی: صدر بائیڈن

نیویارک ، 18اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ رواں برس چھ جنوری کو کیپٹل ہل پر حملے کے دوران پولیس اہل کاروں کے شان دار کردار کی وجہ سے آج ملک میں جمہوریت برقرار ہے۔ہفتے کو کیپٹل ہل پر چالیسویں سالانہ نیشنل پیس آفیسرز میموریل سروس میں 2019 اور 2020 کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اہل کاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جس میں صدر بائیڈن اوران کی اہلیہ جل بائیڈن نے بھی شرکت کی۔

Join Urdu Duniya WhatsApp Group.

عین اس مقام پر جہاں سے مشتعل ہجوم کیپٹل ہل میں داخل ہوا تھا، خطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ نو ماہ قبل آپ کے بہن اور بھائیوں (پولیس اہلکاروں) نے ایک غیرآئینی اور ہماری قوم کے اقدار، ان کے ووٹ پر ایک غیر امریکی حملے کو ناکام بنایا۔ آپ کی وجہ سے جمہوریت برقرار رہی ورنہ ہم ایک بڑی تباہی سے دوچار ہو سکتے تھے۔

خیال رہے کہ چھ جنوری کو کیپٹل ہل پر مشتعل ہجوم نے اس وقت دھاوا بول دیا تھا جب امریکی کانگریس کے اراکین نو منتخب صدر جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کے لیے جمع تھے۔اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے حامیوں کو کیپٹل ہل پر حملے کے لیے اکسایا۔

البتہ ڈونلڈ ٹرمپ ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔صدر کے خطاب کے دوران کیپٹل ہل کے احاطے میں سیکڑوں پولیس اہل کار اور اْن کے اہلِ خانہ موجود تھے۔ ان میں سے بعض اس وقت اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھتے دکھائی دیے جب صدر نے اپنے ذاتی صدمات کا موازنہ فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ کیا۔

صدر بائیڈن کی پہلی اہلیہ اور ان کی کمسن صاحبزادی ستر کی دہائی میں ایک کار حادثے جب کہ ان کے ایک صاحبزادے بو بائیڈن چند برس قبل انتقال کر گئے تھے۔صدر بائیڈن نے اپنے خطاب کے دوران پولیس پر اضافی بوجھ کا بھی تذکرہ کیا اور پولیس کے فنڈز میں کٹوتی کے مطالبات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ میرے سامنے جو لوگ بیٹھے ہیں انہیں مزید وسائل دیئے جائیں گے تاکہ یہ اپنا کام بہتر انداز سے کر سکیں۔

خیال رہے کہ مئی 2020 میں امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر میناپولس میں پولیس تحویل میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد پولیس کے بجٹ میں کمی کے مطالبات بھی سامنے آئے تھے۔صدر کا کہنا تھا کہ ہم آپ سے بہت سی توقعات رکھتے ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ ساری توقعات پوری ہو سکیں، کیوں کہ آج کے دور میں پولیسنگ جتنی مشکل ہے شاید پہلے کبھی نہیں تھی۔

صدر بائیڈن کی جانب سے جارج فلائیڈ کے واقعے کے بعد پولیس کے نظام میں بہتری لانے کی کوششوں کو اس وقت دھچکا پہنچا تھا جب ستمبر میں کانگریس کے مذاکرات کاروں نے اس ضمن میں لائے جانے والے مجوزہ بل پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔البتہ حال ہی میں صدر بائیڈن نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ پولیس نظام میں بہتری لانے کے لیے جامع بل لائیں گے اور ایسے انتظامی حکم نامے جاری کریں گے جس میں قانون توڑنے والے پولیس اہل کاروں کو جواب دہ ٹھیرایا جا سکے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button