فیروز آباد میں بچوں کی موت کی وجہ ڈینگو ہی ہے ، مرکزی ٹیم نے نمونے کی جانچ کے بعد کہا: ذرائع
نئی دہلی،04؍ ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اترپردیش کے ضلع فیروز آباد میں ڈینگی کی وجہ سے 50 سے زائد بچوں کی موت کے بعد مرکزی وزارت صحت نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وہاں ایک ٹیم بھیجی تھی۔ وزارت کے ذرائع کے مطابق ٹیم نے کہا ہے کہ فیروز آباد میں ڈینگو کا ہی قہر ہے۔ ذرائع کے مطابق فیروز آباد میں اب تک نمونوں کی جانچ کے مطابق ڈینگو کا ہی قہرہے۔مرکز کی ٹیم فی الحال فیروز آباد میں ہی ہے۔
یہ ٹیم پیر کو اپنی تفصیلی رپورٹ مرکزی وزارت صحت کو پیش کرے گی۔ فیروز آباد اور گردونواح سے اب تک تقریبا 200 نمونے لیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے 100 سے زائد نمونوں میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ کچھ نمونوں میں اسکرب ٹائفس کے کیسز بھی پائے گئے ہیں۔اسکرب ٹائفس کی بیماری بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جھاڑیوں میں پائی جانے والی چھوٹی مکڑی نما مخلوق (مائیٹ/چھگر) کے کاٹنے سے سکرب ٹائفس ہوتا ہے۔
این سی ڈی سی ٹیم کو مرکزی وزارت صحت نے بدھ کو بھیجا تھا۔ فیروز آباد میں گزشتہ چند دنوں میں 60 سے زائد بچے پراسرار بخار کی وجہ سے مر چکے ہیں۔ اس بیماری میں پہلے بچوں کے پیٹ میں درد ہوتا ہے ، پھر بخار آتا ہے اور پلیٹ لیٹس اچانک کم ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد 2-3 دن کے اندر بچوں کی موت ہوجاتی ہے۔ فیروز آباد کے ڈی ایم نے ایک ماہ کے لیے شہر میں کولر کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔
ماہرین نے تحقیقات میں پایا ہے کہ یہ بیماری وہاں کے ٹھنڈے پانی میں ڈینگی کی انتہائی خطرناک ہیمرجک پرجاتیوں سے پھیل گئی ہے۔ اس ڈینگی میں بچوں کے پلیٹ لیٹس بہت تیزی سے کم ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مر جاتے ہیں۔



