بین الاقوامی خبریں

قرآن کی بے حرمتی: کیا ترکی کی برہمی سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت کے آڑے آئے گی؟

امریکہ کے صدر جو بائیڈن ایسے وقت میں سوئیڈن کے وزیر اعظم کا یکجہتی کے اظہار کے طور پر وائٹ ہاؤس میں خیرمقدم کیا

لندن، 6جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکہ کے صدر جو بائیڈن بدھ کو ایسے وقت میں سوئیڈن کے وزیر اعظم کا یکجہتی کے اظہار کے طور پر وائٹ ہاؤس میں خیرمقدم کیا جب سوئیڈن کو اپنے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں قرآن نذرِ آتش کیے جانے کے معاملے پر ترکیہ سمیت متعدد ملکوں کی جانب سے شدید مذمت کا سامناہے۔رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس ترکیہ کو اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کام کر رہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے لتھوینیا میں ہونے والے اتحاد کے سربراہی اجلاس سے قبل سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت کی منظوری دے سکے۔امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ سوئیڈن کے لیے اتحاد میں شامل ہونا بہت ضروری ہے، جسے ترکی اور ہنگری کے اعتراضات نے روک رکھا ہے۔ترکیہ نے اسٹاک ہوم میں ترک اور اسلام مخالف مظاہروں سمیت دیگر وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے گزشتہ برس سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت پر اعتراض کیا تھا۔ ترکیہ کا مؤقف عید الاضحٰٰی پر سوئیڈن میں ایک شخص کی جانب سے قرآن کو نذر آتش کیے جانے کے بعد مزید سخت ہوا ہے۔

بائیڈن نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں سوئیڈن کے وزیرِ اعظم کرسٹرسن سے ملاقات میں کہا کہ سوئیڈن ہمارے اتحاد کو مضبوط بنانے جا رہا ہے اور اس کی وہی اقدار ہیں جو نیٹو میں ہماری ہے۔سوئیڈش رہنما کرسٹرسن نے امریکہ کی گرمجوشی سے کی جانے والی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم سوئیڈن کے نیٹو میں شمولیت کے لیے آپ کی بھرپور حمایت کو سراہتے ہیں۔فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سوئیڈن اور فن لینڈ نے فوجی طور پر غیر وابستگی کی اپنی پالیسی ترک کر کے نیٹو کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی۔فن لینڈ کو اپریل میں نیٹو کی مکمل رکنیت مل گئی تھی جس کی روس کے ساتھ 800 میل سے زیادہ کی سرحد ہے۔سوئیڈن نے 200 سال سے زیادہ عرصے تک فوجی اتحاد سے گریز کیا لیکن نیٹو میں اس کی شمولیت تاخیر کا شکار ہے۔ ترکیہ اور ہنگری نے سوئیڈن کی کوشش کی توثیق نہیں کی۔نیٹو میں کسی بھی رکن کو شامل کرنے کے لیے اس کے تمام موجودہ اراکین کا متفق ہونا ضروری ہے۔انقرہ نے سوئیڈن پر الزام لگایا ہے کہ وہ عسکریت پسند کرد تنظیموں کے ساتھ بہت نرمی برتتا ہے جنہیں ترکیہ دہشت گرد گروپ سمجھتا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button