بین الاقوامی خبریںسرورق

عالمی مطالبات کے باوجود یرغمالیوں کی واپسی تک جنگ بندی نہیں : نیتن یاھو

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک مرتبہ پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی سے انکار کردیا

غزہ، 6نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک مرتبہ پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی سے انکار کردیا ہے۔ اتوار کو نیتن یاھو نے کہا کہ غزہ کی جنگ میں ہمارے قیدیوں کی واپسی تک جنگ بندی نہیں ہو گی۔ جنوبی اسرائیل میں ایک فضائی اڈے کے دورہ کے دوران انہوں نے کہا ہم اپنے دشمنوں اور دوستوں کو یکساں طور پر یقین دلاتے ہیں۔ جب تک ہم انہیں شکست نہیں دے دیتے ہم لڑائی جاری رکھیں گے۔جمعہ کے روز بھی نیتن یاہو نے غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی سے قبل ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کرنے سے انکار کر دیا تھا۔نیتن یاہو نے تل ابیب میں امریکی وزیر خارجہ بلنکن کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ہم اپنی پوری طاقت کے ساتھ جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسرائیل ایسی عارضی جنگ بندی کو مسترد کرتا ہے جس میں ہمارے یرغمالیوں کی رہائی شامل نہیں ہے۔فلسطینی وزارت صحت کے حکام کے مطابق زمین پر اسرائیلی فضائی حملوں نے اتوار کی صبح وسطی غزہ کی پٹی میں ایک پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔یہ فضائی حملے ایک دن بعد ہوئے جب امریکہ نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی پر عمل درآمد کرے۔ صدر جو بائیڈن نے ہفتے کے روز اشارہ کیا کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔ واضح رہے غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 9700 سے تجاوز کر گئی ہے۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی پر تشدد کارروائیوں میں 140 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔


غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، کسی بھی منظر نامے کیلئے تیار ہیں: اسرائیل

مقبوضہ بیت المقدس، 6نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی شدید بمباری اور زمینی حملہ جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم کسی بھی صورت حال اور ہر محاذ پر لڑنے کو تیار ہیں۔انہوں نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں مزید کہا کہ بڑے حملے اس وقت شروع کیے جا رہے ہیں اور آج رات اور آنے والے دنوں میں جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پٹی میں زمینی کارروائیاں کرنے والی اسرائیلی افواج نے اسے دو حصوں جنوبی اور شمالی غزہ میں تقسیم کر دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے راکٹ داغنے کے جواب میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے متعدد ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری افواج اس وقت غزہ شہر کا محاصرہ کر رہی ہیں اور شہر کے جنوبی ساحل تک پہنچ گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوج اب بھی شہریوں کو شمالی غزہ چھوڑ کر جنوب کی طرف جانے کی اجازت دے گی۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں ایندھن نہیں لایا جائے گا۔خیال ہے کہ محصور غزہ ایندھن، پانی اور بجلی کی مکمل عدم دستیابی کی وجہ سے انتہائی مشکل انسانی حالات میں زندگی گذر رہی ہے۔ سات اکتوبر کو حماس کی اسرائیل پر کارروائی کے بعد اسرائیل نے حماس کا نام ونشان مٹانے کا عزم کر رکھا ہے۔غزہ کے شمالی علاقے جنہیں اسرائیلی فوج نے جنوب سے الگ تھلگ کر رکھا ہے کو اس سے بھی زیادہ سخت حالات کا سامنا ہے۔اسرائیل نے بار ہا شمالی غزہ کے 1.1 ملین باشندوں سے جنوب کی طرف منتقل ہونے کا کہا ہے اور گذشتہ ہفتے کے روز وہاں کے رہائشیوں کو ایسا کرنے کے لیے تین گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ کل شام اسرائیلی فوج نے وہاں کے باشندوں کو دوبارہ وہاں سے نکل جانے کی وارننگ دی۔


لاکھوں افراد کی زندگیاں غزہ بحران سے تباہ ہو رہی ہیں

نیویارک، 6نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹرسنڈی میک کین نے اتوار کو رفح کراسنگ سے غزہ تک محفوظ اور وسیع تر انسانی رسائی کیلیے فوری درخواست کی ہے کیونکہ انسانی ضروریات آسمان کو چھو رہی ہیں اور خوراک کی فراہمی خطرناک حد تک کم سطح تک پہنچ چکی ہے۔غزہ میں داخل ہونے والے داخلی راستوں سوائے رفح کراسنگ پوائنٹ کے عملی طور پر سیل کردیا گیا ہے۔ اگرچہ غزہ میں داخل ہونے والی امداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے لیکن یہ تیزی سے بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین یونی سیف کے مطابق غزہ میں جاری کشیدگی کے آغاز سے اب تک بے گھر ہونے والوں کی تعداد 14 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بچوں اور خاندانوں کو پانی، خوراک اور ادویہ تک عملی طور پر رسائی نہیں ہے۔ پوری غزہ کی پٹی بہت کم یا بغیر بجلی کے زندگی گزار رہی ہے۔ورلڈ فوڈ پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا ہے اس وقت غزہ میں والدین نہیں جانتے کہ وہ آج اپنے بچوں کو کھانا کھلا سکیں گے یا نہیں اور کیا وہ آنے والے کل کو دیکھنے کے لیے زندہ بھی رہیں گے،میک کین نے مصر میں رفح بارڈر کراسنگ سے واپسی پر کہا کہ ’سرحد کے اس طرف کھڑے ہونے سے صرف چند میٹر کے فاصلے پر ہونے ہونے والی تکلیف ناقابل فہم ہے۔انہوں نے کہاکہ آج میں ان لاکھوں لوگوں کیلیے فوری درخواست کررہی ہوں جن کی زندگیاں اس بحران کی وجہ سے برباد ہو رہی ہیں۔میک کین مصر کا دو روزہ دورہ مکمل کررہی ہیں جس کے دوران انہوں نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی اور مصری ہلال احمر کے مرکز العریش کا دورہ کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button