قومی خبریں

یوپی میں بارش کے سبب تباہی، 16 ہلاک، کئی اضلاع میں اسکول بند

لکھنؤ، 23ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی-این سی آر اور یوپی میں بارشوں کا سلسلہ لگاتار جاری ہے اور متعدد مقامات پر تباہی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ یوپی کے کئی اضلاع میں مسلسل ہو رہی بارش کی وجہ سے بدھ کی رات سے جمعرات کی دوپہر تک الگ الگ حادثات میں 16 افراد کے جان بحق ہونے کی اطلاع ہے۔ سب سے زیادہ 10 اموات اٹاوہ میں واقع ہوئی ہیں۔اطلاعات کے مطابق مین پوری میں ایک، فیروز آباد میں تین اور کاس گنج میں دو افرد کی بارش اور اس سے متعلق واقعات میں موت ہوئی ہے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بارش سے متعلق واقعات کی وجہ سے ہونے والی اموات پر غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے عہدیداروں کو زخمیوں کے مناسب علاج کے انتظامات کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔

شدید بارش کے پیش نظر اتر پردیش کے کئی اضلاع میں بچوں کی حفاظت کے پیش نظر اسکول بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، جن میں نوئیڈا، لکھنؤ، علی گڑھ، کانپور، سیتا پور، بہرائچ جیسے اضلاع شامل ہیں۔نوئیڈا میں موسلادھار بارش کے پیش نظر پہلی سے آٹھویں جماعت کے تمام سرکاری اور نجی اسکول جمعہ کو بند رہیں گے۔ ضلع مجسٹریٹ سوہاس ایل یتھراج نے کہا کہ شہر میں زبردست بارش کے پیش نظر پہلی سے آٹھویں جماعت کے تمام سرکاری اور نجی اسکول جمعہ کو بند رہیں گے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے علاقے میں بارش کے حوالے سے الرٹ جاری کرنے کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

ادھر، علی گڑھ ضلع کے ڈسٹرکٹ بیسک ایجوکیشن آفیسر نے بھی بھاری بارش کی پیش گوئی کے پیش نظر 23 اور 24 ستمبر کو تمام اسکولوں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ وہیں راجدھانی لکھنو کی کمشنر روشن جیکب نے بھی طلبا کی حفاظت کے پیش نظر تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ریونیو ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل سکریٹری سدھیر گرگ نے کہا، ’’محکمہ موسمیات نے انتباہ جاری کیا ہے کہ مغربی یوپی میں شدید بارش ہو سکتی ہے۔ جس کے پیش نظر انتظامیہ الرٹ پر ہے۔مسلسل بارش کی وجہ سے کسان دھان کی تیار کھڑی فصل کے ممکنہ نقصان سے پریشان ہیں۔ سبزیوں کی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ سبزیوں کی فصلوں میں ہونے والے نقصان کے باعث مارکیٹ میں سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے سے عام لوگوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔

بارش: موسلادھار بارش سے دہلی پانی پانی، ملک کے کئی حصوں میں بھی بارش

نئی دہلی ، 23ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مانسون اب رخصت ہونے کو ہے ،لیکن رخصتی سے پہلے ایک بار ملک بھر میں سیلاب جیسی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ یوپی، ایم پی، راجستھان سمیت ملک کے کئی حصوں میں مسلسل بارش ہو رہی ہے۔ جمعرات کو شدید بارش کی وجہ سے دہلی-گروگرام ایکسپریس وے 5 کلومیٹر تک جام ہو گیا۔ یوپی کے اٹاوہ میں موسلادھار بارش کی وجہ سے ایک گھر کی دیوار گر گئی، جس میں 4 بچوں کی موت ہو گئی۔دہلی اور این سی آر میں مسلسل بارش کی وجہ سے لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جہاں پانی بھرنے کے حالات کے درمیان دہلی میں ٹریفک جام دیکھنے میں آیا، وہیں فرید آباد اور نوئیڈا جیسے شہروں میں 8ویں جماعت تک اسکولوں کو بند کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے جمعہ (23 ستمبر) کو بھی شدید بارشوں کی وارننگ دی تھی۔ اس کے علاوہ گروگرام میں دفتر جانے والوں کو گھر سے کام کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ گروگرام میں مسلسل بارش کی وجہ سے، دہلی-گروگرام ایکسپریس وے پر پانی جمع ہونے کے درمیان شدید جام کی صورتحال دیکھنے میں آئی۔

ایسے میں پولیس کو ٹوئٹر پر لوگوں سے درخواست کرنی پڑی کہ وہ اپنے گھر سے صرف اس وقت نکلیں جب کوئی فوری ضرورت ہو۔ دوسری طرف یوپی میں کئی دنوں سے مسلسل بارش کی وجہ سے 11 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ کانپور میں آسمانی بجلی گرنے سے 9 سالہ بچہ جاں بحق ہوا، جب کہ اس کا باپ زخمی ہوگیا۔ شاہجہاں پور میں بھی آسمانی بجلی گرنے سے ایک خاتون کی موت ہو گئی۔

آگرہ میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ جس کی وجہ سے سڑکیں بہہ گئیں۔ اس کے ساتھ ہی متھرا میں پانی بھر جانے کی وجہ سے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کا دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ راجستھان کے چورو میں آسمانی بجلی گری، دھول پور میں 4 انچ بارش اگرچہ مانسون راجستھان کے مغربی حصے سے رخصت ہو چکا ہے، لیکن مشرقی راجستھان کے کئی علاقوں میں اب بھی اچھی بارش ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ خلیج بنگال میں کم دباؤ کا نظام بننا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button