مچونگ طوفان کی تباہی:چنئی میں ٹرینیں، پروازیں منسوخ، اسکول بھی بند، 8 ہلاک
مچونگ طوفان سے متاثرہ تمل ناڈو کا 5000 کروڑ روپے مالی امداد کا مطالبہ
چنئی، 5دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) چنئی میں شدید بارش کی وجہ سے 12 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ساتھ ہی کئی ٹرینیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں آج یعنی 5 دسمبر تک تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ چنئی میں آٹھ لوگوں کی موت کی خبر بھی آئی ہے۔سمندری طوفان میچانگ تیزی سے تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تمل ناڈو کے کئی شہروں میں موسلا دھار بارش کے ساتھ تیز ہوائیں چل رہی ہیں۔ چنئی میں اتنی تیز بارش ہو رہی ہے کہ گاڑیاں کشتیوں کی طرح سڑکوں پر تیرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ طوفان کے ٹکرانے سے پہلے ہی مشرقی ساحل کی 5 ریاستیں الرٹ موڈ پر ہیں۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ طوفان نیلور اور مچلی پٹنم کے درمیان زمین سے ٹکرائے گا جس کے بعد اس کی رفتار کم ہو جائے گی۔شائع خبر کے مطابق چنئی میں شدید بارش کی وجہ سے 12 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ساتھ ہی کئی ٹرینیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں بھی چھٹی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ چنئی میں موسلادھار بارش کی وجہ سے آٹھ لوگوں کی موت کی خبر بھی آئی ہے۔خیال رہے کہ آندھرا پردیش کے وزیر اعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی نے افسروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ امدادی اقدامات کرنے کے لیے ہائی الرٹ رہیں۔ آندھرا پردیش میں شدید طوفانی طوفان کے اثرات کے پیش نظر ریاستی حکومت نے 8 اضلاع تروپتی، نیلور، پرکاسم، باپٹلا، کرشنا، مغربی گوداوری، کونسیما اور کاکیناڈا کے لیے الرٹ جاری کیا ہے۔موسلادھار بارش کی وجہ سے چنئی ایئرپورٹ کے رن وے اور سب ویز پانی میں ڈوب گئے ہیں۔
جس کی وجہ سے پروازیں متاثر ہو رہی ہیں۔آندھرا پردیش کے وزیر اعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی بھی طوفان کے حوالے سے مسلسل میٹنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باپٹلا کلکٹریٹ نے مقامی لوگوں کی حفاظت اور راحتی کاموں کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے ہیں۔ طوفان کے باعث حکام کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 24گھنٹے کوآرڈینیشن اور صورتحال کی نگرانی کے لیے کنٹرول روم کے ساتھ میڈیکل کیمپ بھی لگائے گئے ہیں۔ اسی وقت، این ڈی آر ایف نے تمل ناڈو، آندھرا پردیش، اڈیشہ اور پڈوچیری کے لیے 18 ٹیمیں تعینات کی ہیں۔ 10 اضافی ٹیمیں بھی تیار رکھی گئی ہیں۔طوفان کے الرٹ کے پیش نظر ساحلی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
مچونگ طوفان سے متاثرہ تمل ناڈوکا 5000 کروڑ روپے مالی امداد کا مطالبہ
چنئی، 5دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) گردابی طوفان مچونگ نے تمل ناڈو کو بے حال کر دیا ہے۔ کئی لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور بے شمار لوگ موسلادھار بارش کے بعد سیلاب جیسے حالات سے پریشان ہیں۔ اس درمیان تمل ناڈو حکومت نے مرکزی حکومت سے 5 ہزار کروڑ روپے کی مالی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مالی امداد گردابی طوفان مچونگ سے ہوئے نقصان اور انفراسٹرکچر کی از سر نو تعمیر کے لیے مانگی گئی ہے۔ راجیہ سبھا میں وقفہ صفر کے دوران اس ایشو کو اٹھاتے ہوئے ڈی ایم کے لیڈر تروچی شیوا نے یہ مطالبہ کیا۔رکن پارلیمنٹ تروچی شیوا نے کہا کہ ریاست کی سڑکیں زوردار بارش کی وہج سے ندیوں میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ ساتھ ہی سڑکوں کو اس بارش سے بہت نقصان ہوا ہے۔
کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی ٹھپ ہے۔ ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ میں مرکزی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ تمل ناڈو کے حالات کو دیکھتے ہوئے عارضی راحت کے طور پر ریاست کو 5 ہزار کروڑ روپے دیے جائیں۔ ان کی مدد سے ریاستی حکومت متاثرین کی مدد کے لیے ضروری اقدام کرے گی۔تمل ناڈو میں مچونگ طوفان کے قہر کو دیکھتے ہوئے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے ایک پریس کانفرنس بھی کیا ہے۔ اس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں گردابی طوفان مچونگ کی وجہ سے تاریخی بارش ہوئی ہے،لیکن اس بارش سے پہلے کے مقابلے نقصان بہت کم ہوا ہے۔
چنئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گردابی طوفان کی وجہ سے ریاست میں 2015 سے بھی زیادہ بارش ہوئی، لیکن پہلے کے مقابلے میں بہت کم نقصان ہوا۔ 2015 میں جو سیلاب آیا تھا، وہ مصنوعی سیلاب تھا لیکن اس مرتبہ قدرتی وجہ سے سیلاب جیسے حالات بنے ہیں۔وزیر اعلیٰ اسٹالن کا کہنا ہے کہ 2015 میں ریاست میں 4000 کروڑ روپے کی لاگت سے ریاست کی نہروں، ندیوں اور جھیلوں کی صفائی کرائی گئی تھی۔ اسی وجہ سے اس بار زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے۔ 2015 میں بارش اور سیلاب کے سبب 199 لوگوں کی جان گئی تھی، لیکن اس بار ابھی تک صرف 8 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ان اموات کو بھی روکا جا سکتا تھا۔
سمندری طوفان مچونگ کے صوبہ آندھرا پردیش سے ٹکرانے کا خدشہ
امراؤتی، 5دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سمندری طوفان مچونگ چنئی میں تباہی پھیلانے کے بعد آندھرا پردیش سے ٹکرانے والا ہے۔ جلد ہی یہ طوفان باپٹلا کے قریب آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرائے گا۔ سمندری طوفان مچونگ نے چنئی میں کافی تباہی مچائی ہے۔ اس کی وجہ سے بہت زیادہ بارش ہوئی اور اب تک 8 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔آندھرا پردیش حکومت نے آٹھ اضلاع (تروپتی، نیلور، پرکاسم، باپٹلا، کرشنا، مغربی گوداوری، کونسیما اور کاکیناڈا) کے لیے الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ پڈوچیری کے ساحلی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔شام 6 بجے تک وہاں نقل و حرکت پر پابندی ہے۔چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ طوفان کو ایک بڑی تباہی کے طور پر دیکھیں۔
مچونگ کی وجہ سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ جگن موہن ریڈی نے کہا کہ ہر طوفان سے متاثرہ اضلاع کو بچاؤ اور راحت کاری کے لیے 2 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ خصوصی افسران بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ نشیبی علاقوں سے لوگوں کو نکال لیا گیا ہے اور ان کے قیام کے لیے 300 سے زیادہ ریلیف کیمپ تیار کیے گئے ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو تمل ناڈو، آندھرا پردیش اور پانڈیچری کے وزرائے اعلیٰ سے بات کی اور انہیں مرکز کی طرف سے تمام ضروری مدد کا یقین دلایاہے۔
امیت شاہ نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کے اہلکاروں کی کافی تعیناتی پہلے ہی کر دی گئی ہے اور اضافی ٹیمیں بھی مدد کے لیے تیار ہیں۔ہندوستان کے محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل مرتیونجے مہاپاترا نے خبردار کیا ہے کہ ساحلی آندھرا پردیش کے شہروں اور قصبوں میں بہت زیادہ بارش ہو سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 30 سے 40 سینٹی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے،تاہم چنئی میں بارش رک گئی ہے، لیکن شہر کے بیشتر حصے زیر آب آگئے ہیں اور نشیبی علاقے شدیدسیلاب کی زد میں ہیں۔



