سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

محدود استعمال کریں,ذیابیطس نقصاندہ غذائیں

طبی ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کو خشک میوہ جات کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہئے،

Diabetes bad foods ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جو دنیا بھر میں عام ہوتا جارہا ہے بلکہ وبا کی طرح پھیل رہا ہے۔ذیابیطس میں بلڈ شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہے اور اب تک مکمل علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے۔ تاہم طرز زندگی میں بہتری لاکر مرض کو کنٹرول میں رکھا جاسکتا ہے۔فائبر سے بھرپور غذائیں، مناسب مقدار میں پانی پینا اور میٹھی اشیاء سے گریز اس مرض کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو اس حوالے سے کافی احتیاط کرنا پڑتی ہے اور ان کے سامنے کسی غذا کا انتخاب آسان نہیں ہوتا۔ تاہم کچھ غذائیں ایسی بھی ہیں جو صحت مند تو ہے مگر وہ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے مثالی نہیں بلکہ ان کا استعمال نہ کرنا ہی بہتر ہوتا ہے یا کچھ مقدار ہی مناسب ہوتی ہے۔یہاں ایسی ہی غذاؤں کا ذکر کیا جارہا ہے۔

کشمش Raisins

طبی ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کو خشک میوہ جات کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہئے، خاص طور پر ایسے میوہ جات جو کسی پھل کو خشک کرکے بنایا جائے، جیسے کشمش۔ ایسی حالت میں اس میں مٹھاس اور گلیسمک انڈیکس بڑھ جاتا ہے، یعنی اگر ایک کپ انگور میں 27 گرام کاربوہائیڈریٹ ہوگا تو کشمش کے ایک کپ میں یہ مقدار 115 گرام ہوجائے گی، یہی وجہ ہے کہ اسے زیادہ اور تواتر کے ساتھ کھانے سے بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

تربوز یا خربوزہ

طبی ماہرین کے مطابق کچھ مقدار میں تو تربوز یا خربوزہ کھایا جاسکتا ہے مگر زیادہ مقدار ذیابیطس کے مریضوں کیلئے نقصان دہ ہوسکتی ہے، کیونکہ یہ پھل میٹھے زیادہ ہوتے ہیں جس سے بلڈشوگر لیول بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے، تربوز میں گلیسمک انڈیکس کی شرح 72 ہوتی ہے جو کہ بہت زیادہ ہے، خربوز میں یہ شرح 65 ہے، تو اگر یہ پھل کھائیں تو کم مقدار کو ہی ترجیح دیں۔

آلو

آلو تو ہندوستان میں سب سے زیادہ کھائی جانے والی سبزی ہے، جو کہ جلد کے لئے بہترین ہوتی ہے، وٹامن سی، پوٹاشیم، فائبر، بی وٹامنز، کاپر اور دیگر متعدد اجزا کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، مگر یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بہت زیادہ بہتر نہیں، کیونکہ اس میں کاربوہائیڈریٹس اور گلیسمک انڈیکس کی شرح بہت زیادہ ہے جو بلڈ شوگر لیول بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

آم

آم پھلوں کا بادشاہ ہے اور اکثر اسے دیکھ کر ہاتھ روکنا مشکل ہوجاتا ہے، ذیابیطس کے مریض بھی اسے کھا سکتے ہیں مگر ڈاکٹر کا مشورہ پہلے ضرور لیں اور ایک پھانک سے زیادہ کھانے سے گریز کریں، کیونکہ اس میں موجود مٹھاس بلڈشوگر لیول کو بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

چکنائی والا دودھ Skimmed milk

دودھ ویسے تو مکمل غذا ہے مگر ذیابیطس کے مریضوں کو دودھ پینے کے حوالے سے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر چکنائی یا ملائی والے دودھ سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس میں سچورٹیڈ فیٹ کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے، چربی کی یہ قسم انسولین کی مزاحمت کو بدترین بناسکتی ہے۔

فروٹ جوسز

فروٹ جوسز کی بجائے پھلوں کو کھا لیں تو زیادہ بہتر ہے، پھل فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ جوس میں فائبر ختم ہوجاتا ہے، عام طور پر اس طرح کے جوس میں شکر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ بلڈ شوگر لیول کی سطح بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔٭

متعلقہ خبریں

Back to top button