سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

کیسے جانیں؟ ذیابیطس کی علامات

ذیابطیس کی ٹائپ 1 میں علامات بہت جلد دنوں یا کچھ ہی ہفتوں میں ظاہر ہو جاتی ہیں اور یہ علامات زیادہ خطرناک بھی ہوتی ہیں۔

ذیابطیس کا تعلق میٹابولک بیماریوں سے ہے، ذیابطیس کی وجہ سے خون میں شوگر کا لیول بڑھ جاتا ہے اور اس کی وجہ جسم میں انسولین ہارمون کی انسولین پراسسینگ یا انسولین پروڈیوسینگ میں خرابی ہے، ذیابطیس عْمر کے کسی بھی حصے میں حملہ آور ہو سکتی ہے جس میں چھوٹے بڑے کی کوئی قید نہیں، یہ بچوں مردوں اور عورتوں کیساتھ ساتھ ہر طرح کے لائف سٹائل رکھنے والوں کو اپنا شکار بنا سکتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق 1971 سے لیکر 2000 تک مردوں میں ذیابطیس سے جاں بحق ہونے کا تناسب کم ہوا جس کی ایک وجہ ذیابطیس سے لڑنے والی ادویات میں انسان کی ترقی ہے، مگر خواتین میں ذیابطیس سے جاں بحق ہونے کے تناسب میں کوئی کمی نہیں آئی بلکے یہ پہلے سے بھی زیادہ ہوگیا۔ ذیابطیس کی نشانیاں عام طور پر نظر انداز کر دی جاتی ہیں اور ان پر توجہ نہیں دی جاتی خاص طور ٹائپ 2 کی ذیابطیس کی نشانیاں اتنی ہلکی ہوتی ہیں کہ لوگ ان کا بالکل نوٹس نہیں لیتے اور انہیں ایک لمبے عرصے کے بعد اس وقت پتہ چلتا ہے جب یہ بیماری انہیں کوئی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

ذیابطیس کی ٹائپ 1 میں علامات بہت جلد دنوں یا کچھ ہی ہفتوں میں ظاہر ہو جاتی ہیں اور یہ علامات زیادہ خطرناک بھی ہوتی ہیں۔

ذیابطیس کی نشانیاں

ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 دونوں اقسام کی ذیابطیس میں کچھ نشانیاں ایک جیسی ہی ہوتی ہے جو کہ درجہ ذیل ہیں۔

بھوک اور تھکاوٹ: انسان کا خون خوراک کو گلوکوز میں بدلتا ہے اور یہ گلوکوز جسم کے Cells بطور انرجی استعمال کرتے ہیں اور یہ سیلز گلوکوز کو استعمال کرنے کے لئے جسم سے انسولین کی ڈیمانڈ کرتے ہیں اور اگر انسولین ہارمون ٹھیک کام نہ کر رہا ہو تو جسم کے سیلز کو گلوکوز یعنی انرجی ملنی بند ہوجاتی ہے، ایسی صورت میں انسان کو بار بار بھوک لگتی ہے اور جسم کو شدید تھکاؤٹ محسوس ہوتی ہے۔

زیادہ پیاس اور کثرت سے پیشاب: ایک عام انسان دن میں 4 سے 7 دفعہ پیشاب کی حاجت محسوس کرتا ہے مگر اگر جسم ذیابطیس کا شکار ہوجائے تو یہ حاجت کئی دفعہ محسوس ہوتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جسم گلوکوز کو جب وہ گردوں سے گزرتی ہے جذب کر لیتا ہے، لیکن جب خون میں گلوکوز کا لیول ہائی ہو اور انسولین ہارمون ٹھیک کام نہ کر رہا ہوتو گردے خون سے سارے گلوکوز کو جذب نہیں کرپاتے اورگلوکوز کو پیشاب کے راستے خارج کرنا چاہتے ہیں ایسی صورت میں زیادہ پیشاب آتا ہے اور زیادہ پیاس لگتی ہے اور زیادہ پانی پینے سے بھی پیشاب کی مقدار بڑھتی ہے۔

خشک زبان اور جلد پر خارش: آپ کا جسم شوگر کو خارج کرنے کے لئے زیادہ پانی استعمال کرتا ہے تاکہ گلوکوز پیشاب کے راستے خارج ہو ایسی صورت میں آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ زبان ہر وقت خشک ہے اور جسم میں پانی کی کمی جسم کو ڈی ہائیڈریٹ کرتی ہے جس سے جلد پر خشکی اور خارش پیدا ہوتی ہے۔
نظر میں دھندلا پن: جسم میں پانی کی کمی آپ کی آنکھوں کے لینز میں سوزش پیدا کرتا ہے اور لینز کا سائز بدلنے سے آپ کو دْھندلا نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔

ٹائپ 2 ذیابطیس کی نشانیاں

یہ نشانیاں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب ایک لمبا عرصہ خون میں گلوکوز کا لیول بڑھا رہتا ہے اور آپ توجہ نہیں دیتے اور یہ نشانیاں درجہ ذیل ہیں۔

خمیر کی انفیکشن: یہ نشانی مرد اور خواتین دونوں پر ظاہر ہوتی ہے ، Yeast یعنی خمیر گلوکوز پر پلتا ہے اور خون میں گلوکوز کے بڑھنے سے یہ جلد کے ان مقامات پر پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے جہاں پسینے سے نمی رہتی ہے خاص طور پر بغلوں میں، انگلیوں میں اور ٹانگوں کے درمیان کے حصے میں یہ پیدا ہوتا ہے اور آپ کو خارش محسوس ہوتی ہے۔

زخم کا جلدی نہ بھرنا: جسم پر کٹ لگ جانے سے یا کسی اور طریقے سے زخم پیدا ہونے کے بعد اس کا بھرنے کا عمل انتہائی سست ہوجاتا ہے کیونکہ خون میں شوگر کا لیول جب بڑھتا ہے تو جسم میں خون کی ترسیل متاثر ہوتی ہے جس سے زخم کو بھرنے میں دقت پیش آتی ہے۔

پاؤں اور ٹانگوں میں درد اور بے حسی: خون کی ترسیل کے نظام متاثر ہونے سے Nerves ڈیمج ہوتی ہیں اور ٹانگوں اور پاؤں میں خون کا بہاو کم ہو جاتا ہے جس سے ٹانگوں اور پاؤں میں خاص طور پر رات کے وقت درد اور Numbness یعنی کسی چیز کو محسوس کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔

ٹائپ 1 ذیابطیس کی نشانیاں

وزن میں بلا وجہ کمی: جب جسم خوراک سے توانائی حاصل نہیں کر پاتا تو وہ جسم میں موجود چربی کو جلا کر توانائی میں بدلنا شروع کر دیتا ہے اور آپ چاہے اپنی پْوری خوراک کھا رہے ہوں مگر آپ کا وزن کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

متلی یا الٹی محسوس کرنا: جسم جب چربی کو پگھلاتا ہے تو اس سے خون میں کیٹونز پیدا ہوتے ہیں اور ٹائپ ون ذیابطیس میں یہ کیٹونز خون میں خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے اور جب یہ بڑھتے ہیں تو یہ معدے کو متاثر کرتے ہیں جس سے متلی اور الٹی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

دوران حمل ذیابطیس کی نشانیاں: دوران حمل ظاہر ہونے والی ذیابطیس کی عام طور پر کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیں ماسوائے کے آپ کو زیادہ پیاس لگتی ہے اور زیادہ پیشاب آتا ہے۔

ذیابطیس کیسے احساس دلاتی ہے: ٹائپ 2 ذیابطیس درجہ ذیل علامات کے ساتھ اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے۔زخم جلدی نہ بھرنا، جلد پر خارش اور خشکی، اکثر خمیر کی انفیکشن، وزن کا بڑھ جانا، جلد کا گردن ، بغلوں اور ٹانگوں کے درمیان رنگ گہرا ہوجانا، جسم کے اعضا میں سوئیاں چبھنا اور بے حسی محسوس کرنا، نظر کا متاثر ہونا۔

خون میں شوگر لیول کم ہونے کی علامات

ذیابطیس سے جڑی اس بیماری کو Hypoglycemia کہتے ہیں اور اس کی علامات اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب خون میں گلوکوز کو لیول انتہائی کم ہوجاتا ہے اور اسکی علامات درجہ ذیل ہیں۔

جسم پر کپکپاہٹ، بے چینی اور پریشانی، شدید پسینہ آنا، سردی لگنا، چپچپاہٹ محسوس کرنا، کنفیوز ہونا، سر کا ہلکا ہونا اور چکر آنا، شدید بھوک لگنا، زیادہ نیند آنا، کمزوری محسوس کرنا، ہونٹوں پر زبان پر اور گردن پر گدگدی محسوس کرنا اور بے حسی محسوس کرنا۔ ان علامات کے ساتھ آپ یہ علامات بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، جلد کا پیلا ہونا، نظر میں دھندلاہٹ، سر درد، ڈراؤنے خواب آنا، یا سوتے میں چلانا، توجہ میں کمی، جسم کو جھٹکے لگنا یا دورہ پڑنے کی کیفیت ہونا۔

نوٹ :ایسی کسی بھی علامات کی صورت میں فوراً اپنے خون میں شوگر لیول کاٹیسٹ کروائیں اور ڈاکٹر سے رابطہ کریں آپ اپنے جسم میں اس بیماری کو جتنی جلد دریافت کر یں گے اس سے اس بیماری سے پیدا ہونے والی بڑی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔

احتیاط بہتر ہے ,ذیابیطس میں مفید و آسان پرہیز

متعلقہ خبریں

Back to top button