نئی دہلی، 30 نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہندوستان میں کل یعنی یکم دسمبر سے ڈیجیٹل کرنسی (ڈیجیٹل روپی) کی شروعات ہو جائے گی۔ یکم نومبر کو آر بی آئی نے ہول سیل ٹرانزیکشن کے لیے ڈیجیٹل روپیہ لانچ کیا تھا، اور اب سنٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی ریٹیل استعمال کے لیے لانچ کرے گا۔ ایسے میں لوگوں میں اس بات کو لے کر تجسس دیکھنے کو مل رہا ہے کہ آخر یہ ڈیجیٹل روپیہ کیا ہے، اور اس کا استعمال کس طرح کیا جائے گا؟ سبھی اس کے فائدے اور نقصانات کے بارے میں جاننے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ آئیں جانتے ہیں ان سبھی سوالات کے جواب۔ڈیجیٹل روپیہ ایک ڈیجیٹل ٹوکن کی طرح کام کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ ڈیجیٹل روپیہ آر بی آئی کی طرف سے جاری کیے جانے والے کرنسی نوٹ کی ڈیجیٹل شکل ہے۔
اس کا استعمال کرنسی کی طرح ہی لین دین میں کیا جائے گا۔ آر بی آئی کے مطابق ای-روپی کا ڈسٹریبیوشن بینکوں کے ذریعہ ہوگا۔آر بی آئی کے مطابق ڈیجیٹل روپیہ ایک پیمنٹ کا ذریعہ ہے، جو سبھی شہری، بزنس، حکومت اور دیگر لوگوں کے لیے ایک لیگل ٹنڈر ہوگا۔ اس کی قدر سیف اسٹور والے لیگل ٹنڈر نوٹ یعنی موجودہ کرنسی کے برار ہی ہوگی۔آر بی آئی کے مطابق ریٹیل ڈیجیٹل روپیہ کے پائلٹ پروجیکٹ کے دوران اس کے ڈسٹریبیوشن اور استعمال کے پورے عمل کی ٹیسٹنگ ہوگی۔
جانکاری کے مطابق شروعات میں ریٹیل ڈیجیٹل روپیہ کا رول آؤٹ کچھ منتخب لوکیشنز پر ہی کیا جائے گا۔اب سوال یہ ہے کہ عام آدمی ڈیجیٹل روپیہ کا استعمال کیسے کر پائے گا۔ ڈیجیٹل والیٹ کے ذریعہ سے ’پرسن ٹو پرسن‘ یا ’پرسن ٹو مرچینٹ‘ کے درمیان لین دین کیا جا سکے گا۔ یہاں تک کہ لوگ موبائل والیٹ سے بھی ڈیجیٹل روپیہ سے لین دین کر سکیں گے۔ کیو آر کوڈ اسکین کر کے بھی اس سے پیمنٹ کیا جا سکے گا۔ایسا دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹل روپیہ ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط کرنے میں مدد کرے گا۔ اس کے لانچ ہونے سے لوگوں کو اپنے پاس نقد رکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس میں موبائل والیٹ کی طرح ہی اس سے پیمنٹ کرنے کی سہولت دی جائے گی۔



