بھوپال، 12جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) 2 دن پہلے آر ایس ایس RSS کا دیمک سے موازنہ کرنے کے بعد اب دگ وجے سنگھ نے آرایس ایس کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔ دگ وجے سنگھ نے کہا کہ میں نے کبھی ہندو یا بھگوا دہشت گردی نہیں کہا۔ بلکہ آر ایس ایس کے لئے دہشت گرد کا لفظ استعمال کیا۔ خود پر ہندو مخالف ہونے کے الزامات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میںفطری طور پر ہندو ہوں اور ہندو ہی رہوں گا۔ میں انتہا پسندی کے خلاف ہوں۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں مذہب کا استعمال ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔
دگ وجے سنگھ اور آر ایس ایس کے درمیان پرانا رشتہ ہے۔ آرایس ایس کے خلاف اپنے بیانات کی وجہ سے دگ وجئے سنگھ مسلسل تنازعات اور سرخیوں میں ہیں۔ دو دن پہلے انہوں نے آرایس ایس کو دیمک قرار دیا تھا۔ڈگ وجے سنگھ نے کہاکہ آر ایس ایس سناتن مذہبی اقدار کے خلاف ایک گروہ ہے ،انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلمان دونوں نے ایک دوسرے کے مذہبی مقامات کو مسمار کئے ،لیکن یہ جنگ کوئی مذہبی جنگ نہیں تھی،بلکہ جو جنگیں ہوئی ہیں وہ تمام جنگیں سیاسی رہی ہیں۔
دگ وجے کے مطابق ہندوتوا کا لفظ کسی کتاب میں نہیں ملتا۔ ساورکر نے اپنے استعمال کے لیے لفظ ہندوتوا بنایا۔ مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کیا جائے تو ہم اس کے خلاف ہیں۔
دودن پہلے دگ وجے سنگھ نے آر ایس ایس پر حملہ آور ہوتے ہوئے اس کا موازنہ دیمک سے کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ آپ ایک ایسی تنظیم سے لڑ رہے ہیں جو اوپر سے نظر نہیں آتی،لیکن اندر سے جڑیں کھوکھلی کرتی رہتی ہے۔ آر ایس ایس اسی طرح کام کرتا ہے جس طرح دیمک کسی بھی چیز سے چپک جاتی ہے۔



