سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

سفارت کار بھی دو خانوں میں بٹ گئے

جیوتی ملہوترا

نریندر مودی حکومت میں ایسا لگتا ہے کہ معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہوکر رہ گیا۔ عام طور پر اپوزیشن قائدین یہی الزامات عائد کرتے رہے ہیں کہ پچھلے سات برسوں سے عوام کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوششیں کی گئیں تاکہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکے۔ ان کوششوں کے درمیان مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بی جے پی میں شامل کیا گیا ان کی شمولیت کیسے اور کن حالات میں عمل میں آئی۔ اس کی وجوہات کیا تھیں۔

یہ سب پر عیاں ہیں۔ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے تاہم اب تو سفارت کار (ریٹائرڈ) برادری بھی منقسم نظر آتی ہے۔ سابق سفارت کاروں کا ایک حصہ مودی کی خارجہ پالیسی کی تائید و حمایت کرتا دکھائی دیتا ہے تو دوسرا حصہ مودی کی مخالفت کرتا نظر آتا ہے۔ جہاں تک سفارتی برادری کا سوال ہے، اس نے موجودہ خارجی پالیسی کے بارے میں اور وہ بھی موجودہ حالات میں برسرعام کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے شرماتا رہا ہے اور یہ رجحان کوئی نیا نہیں ہے لیکن حال ہی میں سابق سفارت کاروں کے ایک گوشہ نے جو مکتوب روانہ کیا اس میں دوسرے سابق سفارت کاروں کے گروپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

جس سے اچھی طرح اندازہ ہوگیا کہ ان سفارت کاروں کے درمیان مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو لے کر کافی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ مودی حکومت کی خارجہ پالیسیوں کی تائید میں حالیہ عرصہ کے دوران جن 33 سابق سفارت کاروں نے مکتوب تحریر کرتے ہوئے اس پر دستخطیں ثبت کی۔ اس گروپ کا تعلق فورم فار فارمر ایمبیسڈرس آف انڈیا (ہندوستان کے سابق سفارت کاروں کے فورم) سے ہے جو موافق مودی گروپ ہے جبکہ کانسٹیٹیوشنل کنڈکٹ گروپ (CCG) ریٹائرڈ سفارت کاروں کی ایک بہت بڑی تنظیم ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کا مخالف سمجھا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ FOFA کا یہ کوئی پہلا مکتوب نہیں ہے۔ مرکزی وزارت اُمور خارجہ کی طرح FOFA نے اس سے قبل بھی وزیراعظم کینیڈا جسٹن ٹریڈیو (Justin Trudeau) کو اس بیان کیلئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو انہوں نے ہمارے ملک میں زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے زبردست احتجاجی مظاہروں کی تائید میں دیا تھا۔ اس طرح FOFA نے عالمی تجارتی تنظیم (ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن) پر زرعی شعبہ سے متعلق اس کے دوہرے معیار کو نشانہ بناتے ہوئے بیان جاری کیا تھا

جس وقت فرانس میں دہشت گردانہ حملے ہوئے صدر ایمانول مائیکرون نے ان حملوں کو اسلام پسندوں کے دہشت گردانہ حملہ قرار دیئے تب بھی FOFA نے پہل کرتے ہوئے ایمانول مائیکرون کی تائید کی تھی۔ آپ کو یہ بتانا ضروری ہے کہ FOFA کے جو ارکان ہیں ان میں ایک نام بہت زیادہ جانا مانا ہے اور وہ ہیں، سابق معتمد خارجہ کنول بنسل جنہوں نے سال 2002ء میں گجرات فسادات کے ضمن میں یوروپی یونین کی جانب سے کی کئی تنقید کو مسترد کردیا تھا۔

حالیہ عرصہ کے دوران FOFA کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مودی کی خارجہ پالیسی پر کی جانے والی تنقیدیں غیرمنصفانہ ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خارجہ پالیسی کا تسلسل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر 1998ء میں جوہری تجربے اٹل بہاری واجپائی کی زیرقیادت حکومت میں کئے گئے جو ڈاکٹر منموہن سنگھ کی زیرقیادت حکومت میں 2008ء کے ہند۔ امریکہ جوہری معاملت کا باعث بنا لیکن FOFA یہ بھول گئی کہ کس طرح بی جے پی نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور وزارت عظمیٰ کے دوران جوہری معاہدہ روکنے کی جان توڑ کوشش کی یہاں تک کہ اس نے پارلیمنٹ میں خط اعتماد کے دوران وزیراعظم کو کچھ وضاحت کرنے اور بیان دینے سے بھی روک دیا تھا)

لیکن FOFA نہ صرف مودی حکومت پر سی سی جی کی تنقید پر برہمی کا اظہار کررہی ہے بلکہ وہ عالمی سطح پر مشہور و معروف اور خارجہ پالیسی کے ماہر سابق مشیر قومی سلامتی شیوشنکر مینن اور سابق معتمد خارجہ شیام سرن پر بھی تنقیدوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ دونوں شخصیتیں CCG کے مخالف مودی مکتوبات پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہیں اور بطور خاص مودی کی خارجہ پالیسی پر نکتہ چینی کی ہے۔

خاص طور پر مودی نے جس طرح چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ اور کووڈ بحران سے نمٹنا اس پر مذکورہ دونوں شخصیتوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تھا ان کا کہنا تھا کہ مودی کو صرف اور صرف اپنی شبیہ بنانے کی فکر لاحق ہے۔یقینا FOFA اور CCG کے درمیان بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے اور وہ صرف یہ ہے کہ آر ایس ایس (راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ) FOFA میں دلچسپی رکھتی ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔

آر ایس ایس کے سینئر اور بااثر قائدین جیسے کرشنا گوپال اور دتاتریہ ہوشبالے (جو آر ایس ایس) میں موہن بھاگوت کے بعد دوسرا مقام رکھتے ہیں) نے متعدد مرتبہ FOFA کے اجلاس سے خطاب کئے جبکہ آر ایس ایس کے خصوصی پہل پراجیکٹ کے نگران چندرا وادھوا جو انڈیا فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی بھی ہیں، وہ صرف واحد غیرسفارت کار ہیں جو باقاعدہ اور مسلسل FOFA کے واٹس ایپ گروپ میں آر ایس ایس کی دستاویزات پوسٹس کرتے رہتے ہیں۔

بعض لوگ اس بارے میں کہیں گے کہ اگر آر ایس ایس کا کوئی تنظیمی عہدیدار سابق سفارت کاروں کے واٹس گروپ میں کچھ پوسٹ کرتا ہے تو اس سے کیا۔ ویسے بھی آر ایس ایس بااثر لوگوں کو اپنے دوست بنانے اور لوگوں پر اثرانداز ہونے کا جو طریقہ کار اختیار کرتی ہے، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

ایسے میں اگر وہ سابق ہندوستانی سفارت کاروں کے گروپ کا دل جیتنا چاہتی ہے تو اس میں کیا قباحت ہے۔ جہاں تک حکومت کی تائید میں کھڑے سابق سفارت کاروں کا سوال ہے، یہ پوری طرح ان کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ جو چاہیں نظریہ پاتی یا فکری عمل سے متاثر ہوں یا رہنمائی حاصل کریں کیونکہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوریت میں ہر کسی کو اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے اور یقین کرنے کی آزادی ہے۔

اس طرح کی صورت میں کوئی یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ رازداری کیوں ؟

FOFA آخر کیوں آر ایس ایس سے اپنے تعلق کو چھپانے کی خواہاں ہے؟ حالیہ عرصہ کے دوران جو مکتوب لکھا ہے اس میں دراصل اس بات کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا کہ وہ بی جے پی کے نظریاتی سرپرست تنظیم کے ساتھ اس طرح کے تعلقات رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ FOFA کے کنوینر بھاسوتی مکرجی ہیں۔ چند ماہ قبل جب آر ایس ایس کے نمبر دو رہنما ہوشا بالے نے FOFA سے خطاب کیا، اس وقت کچھ سوالات بھاسوتی مکرجی اور چندرا ودھوا سے کئے گئے لیکن کوئی جواب نہیں ملا ۔

ودھوا نے صرف اتنا کہا کہ سفارت کاروں سے بات کیجئے۔

یہ یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ انڈین فارن سرویس پہلی مرتبہ برسرعام منقسم ہوئی ہے بلکہ ماضی میں بھی ایسا کئی مرتبہ ہوچکا ہے۔ سابق آئی ایف ایس آفیسر برجیش مشرا جنہوں نے ماؤ زیڈونگ سے بات چیت کے بعد غیرمعمولی شہرت حاصل کی تھی (جب ماؤ نے برجیش مشرا کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا تھا) ۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب 1970ء میں برجیش مشرا کی بیجنگ میں تعیناتی عمل میں آئی تھی اور پھر انہوں نے 1981ء میں اپنی خدمات سے استعفیٰ دے دیا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ اندرا گاندھی نے افغانستان پر سوویت یونین کے قبضہ کی کھلے عام مذمت سے انکار کردیا تھا۔ بعد میں برجیش مشرا نے 1991ء میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور پھر 1998ء میں واجپائی کے بااثر مشیر قومی سلامتی بن گئے۔ سابق سفارت کاروں کا سیاسی شعبہ میں داخل ہونا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ایس جئے شنکر کو ملک کا وزیر خارجہ بنایا گیا اور وہ اس عہدہ پر اب بھی فائز ہیں۔

اسی طرح 1953ء بیاچ کے آئی ایس ایف عہدیدار کے نٹور سنگھ نے 1984ء میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور راجیو گاندھی حکومت میں مملکتی وزیر بنائے گئے۔ 2004ء میں انہیں کابینی وزیر بنایا گیا۔ آئی ایف ایس عہدیداروں نے مختلف سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کی۔

پون ورما نے 2013ء میں نتیش کمار کی جنتا دل (یو) میں شمولیت اختیار کی ۔ میرا کمار 1985ء میں کانگریس میں شامل ہوئیں اور پھر انہیں 2004ء میں مرکزی وزیر بنایا گیا اور 2009ء میں اسپیکر لوک سبھا بنائی گئیں۔ موجودہ مودی حکومت میں وزیر شہری اُمور و شہری ہوا بازی ہردیپ سنگھ پوری 2014ء میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button