
اب ڈسکامس کو برقی شرحوں میں ہر ماہ اضافہ کا اختیار
ای آر سی کا اہم فیصلہ ‘اضافہ فی یونٹ 30 پیسے سے زیادہ نہیں ہوسکتا ، یکم اپریل سے عمل آوری
تازہ فیصلے سے ڈسکامس پر سالانہ 1500 تا 2000 کروڑ کا بوجھ کم ہوگا ، زرعی پمپ سیٹس کو استثنی
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ڈسکامس اب ماہانہ برقی شرحوں میں اضافہ کرسکتے ہیں ۔ یہ لچک فیول ایڈجسٹمنٹ کے مطابق کی گئی ہے ۔ اضافے کیلئے اسٹیٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری بورڈ ( ٹی ایس ای آر سی ) سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں احکام جاری کردئے گئے ہیں ۔ یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ برقی کی شرح میں ماہانہ 30 پیسے فی یونٹ سے زیادہ اضافہ نہیں ہونا چاہئے ۔ جن وجوہات پر قابو نہیں پایا جاسکتا ان ہی شرحوں میں اضافہ کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ ای آر سی کی ہدایات کے مطابق وصولی نہ ہونے پر برقی شرحوں میں اضافہ کے اختیارات ڈسکامس کو حاصل رہیں گے ۔ یہ تازہ احکام یکم اپریل سے نافذ ہوں گے ۔ ای آر سی کے اس فیصلہ سے ڈسکامس پر سالانہ 1500 یا 2000 کروڑ روپئے کا مالی بوجھ کم ہوگا ۔ ابھی تک ڈسکامس کے قابو سے باہر مختلف وجوہات کیلئے شرحوں میں اضافہ کی ضرورت ہوتی تو انہیں ایک سال انتظار کرنا پڑتا تھا ۔ اس تازہ فیصلے سے دو ماہ میں جملہ رقم وصول کرنے برقی شرحوں میں اضافہ کی گنجائش فراہم کی گئی ہے ۔ موسم گرما میں طلب کے مطابق عام بازار ( کھلی مارکٹ ) سے برقی برقی خریدی جائے تو بھی ڈسکام کو اصافہ قیمت فوری چارج کرنے کی لچک ملتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر اپریل کے مہینے میں 100 کروڑ روپئے کا اضافہ خرچ ہوتا ہے ۔
وہ حساب مئی کے مہینے میں کیا جائے گا اور جون میں صارفین پر بوجھ عائد کیا جائے گا اور جولائی کے بلز میں اس کو شامل کرکے صارفین سے وصول کیا جائے گا ۔ درحقیقت سنٹرل الکٹرسٹی ڈپارٹمنٹ نے 22 اکٹوبر 2021 کو ڈسکام کو آئندہ مہینوں میں بے قابو وجوہات سے متعلق اخراجات جمع کرنے کی اجازت دی تھی ۔ اس فیصلے کے بعد تلنگانہ ای آر سی نے بھی قوانین میں تبدیلیاں کی ہیں ۔ اس کے مطابق فیول سرچارج ایڈجسٹمنٹ فارمولے کے بعد جمع کئے جاسکتے ہیں ۔ تاہم ہر تین ماہ میں ایک بار کھاتوں کو جانچ کیلئے بھیجنا ہوگا ۔ مالیاتی سال کے اختتام پر پورے سال کے کھاتوں کو ای آر سی میں جمع کرنا ہوگا ۔ ڈسکامس کو یہ تفصیلات ہر ماہ کی 15 تاریخ کو ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کرنی ہوگی تاہم ای آر سی نے زرعی پمپ سیٹس سے چارجس وصول کرنے کی اجازت نہیں دی ہے ۔ اس معاملے میں واضح کردیا گیا ہے کہ زرعی پمپ سیٹس کے چارجس حکومت سے وصول کئے جائیں ۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ٹرو اپ پٹیشن کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی ۔



