سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

افادات زکیہ،اپنے کو دوسروں پر فضیلت نہ دو

اہل اللہ کی دولتِ باطنی کے اثرات

اپنے کو دوسروں پر فضیلت نہ دو

فرمایا کہ: لاَ تُفَضِّلُوْنِیْ عَلٰی یُوْنُسَ اِبْنِ مُتٰی اَوْ کَمَا قَالَ: یعنی مجھ کو یونس ابن متی uپر فضیلت مت دو۔ اس حدیث میں جب رسول اللہ  نے اپنی تفضیل کو نبی پر منع فرمایا پس حضور ﷺ نے جس معنی کر بھی یہ ممانعت فرمائی۔ امتی کو تو چاہے وہ خاصی ہو یا عامی اپنی تفضیل دوسروں پر بدرجۂ اولیٰ منع ہوگی کیونکہ آپ کی فضیلت تونص قطعی سے ثابت ہے اس کے باوجود جب آپ نے صحابہ کرام ؓ کو منع فرمایا تو مشائخ اور اولیائے کرام تو حضور ﷺ کے تابع اور پسرو ہیں اور ولایت نبوت کی فرع ہے لہٰذا ان کو چاہئے کہ اپنی تفضیل دوسروں پر ہرگز نہ کریں کہ یہی اتباع سنت ہے اور کسی کو کیا معلوم کہ کس شخص کا اللہ کے یہاں کیا مرتبہ ہے؟

فرمایا کہ دو آدمی تھے۔ ان میں ایک صاحب قادریہ سلسلہ کے تھے وہ سلسلۂ قادریہ کو ترجیح دیتے تھے۔ بالآخر حضرت حاجی صاحب کے یہاں گئے اور ان سے ان کی رائے دریافت فرمائی اور خود اپنی تائید میں شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا ارشاد : قَدَمِیْ ہٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃٍ کُلِّ وَلِیٍّ۔ (یعنی میرا قدم سب اولیاءؒ کی گردن پر ہے) پیش کیا تو حضرت حاجی صاحب نے فرمایا کہ اس سے تو ان کی افضلیت نہیں ثابت ہوتی کیونکہ صوفیاء کا متفقہ کلیہ ہے کہ نزول عروج سے افضل ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ حضرت غوث اعظمؒ اس وقت عروج میں رہے ہوں اور دوسرے حضرات نزول میں۔

اہل اللہ کی دولتِ باطنی کے اثرات

حکیم اجمیری صاحب نے قبل مجلس عرض کیا کہ حضرت کی خدمت میں حاضری کا سب سے بڑا نفع جو مجھے ہوتا ہے وہ یہ کہ جب تک یہاں رہتا ہوں اپنے قلب میں الحمد للہ ایک سکون اور ا طمیان پاتا ہوں اور اگر دوسری ذمہ داریاں اپنے سر نہ ہوتیں تو بس دل تو یہی چاہتا ہے کہ یہیں پڑا رہوں اور ہمارے بھائی محمد احمد صاحب کی توپیشین گوئی ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ تو الہٰ آباد مستقل جاپڑے گا۔

حیات طیبہ دولت باطنی ہی کا نام ہے

فرمایا:میں کہتا ہوں کہ حیاتِ طیبہ وہی باطنی دولت ہے جو ظاہری سلطنت سے بھی بڑھ کر ہے جس کے متعلق آپ نے سنا کہ اگر سلاطین کو خبر ہوجائے تو اسکے حاملین پر فوج کشی کریں۔ بزرگوں کے بے شمار واقعات اس پر شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص کی برکت سے اس دنیا میں بھی ان کو بڑے بڑے کمالات سے نوازا ہے۔

نیک عورتوں کی کرامتیں

ایک عورت سے کہا گیا کہ تیرا لڑکا تالاب میں ڈوب گیا ہے ۔ یہ سن کر وہ تالاب کے کنارے گئی اور لڑکے کا نام لے کر اس کو پکارا کہ فلانے۔ لڑکے نے ا ندر سے جواب دیا جی اماں۔کہا آجائو بس فوراًوہ باہر نکل آیا۔ اس کا نام خرق عادت ہے۔ اولیاء اللہ کو یہ چیز بھی حاصل ہوتی ہے لوگوں نے اس عورت سے پوچھا کہ تجھے کیسے معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہے اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ جو بات ہونے والی ہوتی ہے تو پہلے سے مجھے اس کی اطلاع فرمادیتے ہیں مگر اس کی مجھے کوئی اطلاع نہیں فرمائی گئی تو اس سے میں نے سمجھا کہ میرا لڑکا زندہ ہے کیونکہ وہ اپنے معاملہ کے خلاف نہیں کیا کرتے ہمیں سے کچھ خلاف واقع ہوجائے تو ہوجائے۔

اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی اسی ایک کرامت کو ظاہر کرنے کے لئے ایسی صورت پیدا فرمادی تاکہ لوگ اس سے سوا ل کریں اور اس کی یہ کرامت ظاہرہو۔ دیکھا آپ نے کبھی ایسی ایسی باکرامت مسلمان عورتیں ہوا کرتی تھیں۔(ماخوذ: از افادات حکیم الامتؒ صفحہ: ۲۲تا۲۴مؤلفہ حضرت از حبیب الامت رح )٭

متعلقہ خبریں

Back to top button