سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

ٹرمپ خود غرض اور اَنا پرست، مودی دوستی کا دم نہ بھریں

پی چدمبرم (سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس)

صدر امریکہ کا دفتر ساری دنیا میں اپنی ایک منفرد حیثیت و شناخت رکھتا ہے، ایک مقام رکھتا ہے اور اسے یہ منفرد مقام اصل میں وسیع تر اور مخصوص و غیرمعینہ اختیارات کی وجہ سے حاصل ہے۔ ایک طرف امریکی صدر کے دفتر کو غیرمعمولی اختیارات حاصل ہیں تو دوسری طرف امریکہ، دنیا کا دولت مند ترین اور طاقتور ملک ہے چنانچہ امریکہ کے دولت مند طاقتور و باثر ہونے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ولیم میکن لے نے امریکہ کے علاقہ کو وسعت دی اور اس کیلئے پیورٹو ریکو، گوام، فلیپائن اور ہوائی کو اپنے ساتھ ملالیا۔ ووڈ رو ولسن اور فرینکلن ڈی روز ویلٹ نے تقریر کی آزادی، آزادی اظہار خیال کو دبایا اور غیرملکیوں و ناراض عناصر کو گرفتار کرنے انہیں ملک بدر کرنے ایگزیکٹیو آرڈرس کا استعمال کیا۔ براک اوباما نے امریکی کانگریس کی اجازت کے بغیر War Power Act 1973 کے تحت لیبیا پر جنگ مسلط کردی (اس طرح ایک خوشحال ملک تباہ و برباد ہوکر رہ گیا)۔

امریکہ کے 47 ویں صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ کے علاوہ کوئی نہیں۔

آٹھ دہائیوں تک خرابیوں اور غلط مہم جوئی کے باوجود امریکہ آزادانہ جمہوری ملکوں کا رہنما اور عالمی نظام کا ضامن سمجھا جاتا رہا۔ امن ، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور انسانی حقوق کے مقصد کو آگے بڑھانے کیلئے متعدد عالمی ادارے بنائے گئے، تاہم مسٹر ٹرمپ کے تحت بمشکل آٹھ ہفتوں میں امریکہ نے عالمی ادارۂ صحت کو چھوڑ دیا اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی) اور اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کو مالیہ کی فراہمی روک دینے کی دھمکی بھی دے دی۔

مسٹر ٹرمپ نے یو ایس ایڈ کو بند کردیا ہے اور ساری دنیا میں درجنوں پروگراموں کو روک دیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ، نیٹو (NATO) سے بھی اپنا تعلق ختم کرسکتا ہے۔ ایلون مسک نے ہزاروں ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کردیا ہے اور اس بات کے پورے پورے امکانات پائے جاتے ہیں کہ محکمہ تعلیم کو بھی بند کردیا جائے گا۔ مسٹر ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کے دوست، دشمن بن رہے ہیں (مثال کے طور پر یوکرینی صدر زیلنسکی) اور دشمن دوست بن رہے ہیں (مثال کے طور پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن) مسٹر ٹرمپ نے دوسرے ملکوں کو دھمکیاں دینے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔

ٹرمپ مختلف ملکوں کے خلاف دھمکی آمیز زبان استعمال کررہے ہیں۔

مسٹر ٹرمپ نے دوست (انڈیا) اور دشمن (چین) کے درمیان بھی کوئی امتیاز برقرار نہیں رکھا اور وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ معاہدات کئے جائیں، سودے کئے جائیں۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی میں سودے ہی کئے ہیں۔ ٹرمپ نے پہلے تو یوکرینی صدر زیلنسی کو وائٹ ہاؤز مدعو کیا لیکن جب وہ وائٹ ہاؤز پہنچے تب بڑی بے عزتی کے ساتھ وہاں سے نکال باہر کیا اور جب زیلنسکی معاہدہ پر دستخط کیلئے تیار ہوئے، انہیں دوبارہ وائٹ ہاؤز مدعو کیا اور کہا کہ زیلنسکی پر ان کی باتوں کا اثر ہوا تب کہیں جاکر زیلنسکی نے انتہائی قیمتی معدنیات کی نکاسی کیلئے امریکہ سے معاہدہ پر رضامندی ظاہر کی۔

ساری دنیا نے دیکھا کہ امریکی صدر اور نائب صدر نے اپنے مہمان زیلنسکی کی کس طرح توہین کی۔

یہاں تک کہ ان کے لباس کو بھی نشانہ بنایا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ جیسا امریکی صدر اور خود کے Deal Maker کا اعتراف کرنے والے ٹرمپ کے ساتھ دنیا کدھر جائے گی اور اس کے ہندوستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے جبکہ دنیا کیلئے آمر حکمران اپنا ایک کلب بنائیں گے۔ مسٹر ٹرمپ، مسٹر پوٹن اور مسٹر ژی جن پنگ جیسے آمر حکمران علاقوں پر قبضہ کریں گے۔ امریکہ کی نظر پناما کنال، کینیڈا، گرین لینڈ اور غزہ پر ہے جبکہ روس پہلے ہی کریمیا ابقاضیہ اور جنوبی اوپٹسا کو خود میں ضم کرچکا ہے اور اب یوکرین کو بھی اپنے میں شامل کرنے کا خواہاں ہے۔

تیسری طرف چین، تبت اور ہانگ کانگ پر زبردستی قبضہ کئے ہوئے ہے۔ انڈیا، چین کیلئے بہت حساس حیثیت رکھتا ہے اور اس معاملے میں امریکہ اور نہ ہی روس، انڈیا کی مدد کریں گے۔ ہندوستان کو اب زبردستی امریکی ہتھیار خریدنے پڑیں گے۔ ہندوستان نے امریکہ سے زیادہ سے زیادہ مصنوعات اِمپورٹ کرنے کا وعدہ کیا۔

ہندوستان پر اثرات

ہندوستان کو امریکی ہتھیار خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ روس سے سستا تیل خریدنے پر پابندی عائد ہو سکتی ہے، جبکہ امریکی محاصل کی جنگ ہندوستان کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔ جرمنی اور فرانس امریکہ کی پالیسیوں کو بہتر سمجھ چکے ہیں، لیکن نریندر مودی اب بھی ٹرمپ کو دوست تصور کرتے ہیں۔

مستقبل کا منظرنامہ

اگر ٹرمپ عالمی معیشت کو نقصان بھی پہنچا دیں تو انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔ دنیا کو اگلے چار سالوں تک ان کی پالیسیوں کے اثرات جھیلنا ہوگا۔


🌍 اردو دنیا نیوز کے ساتھ باخبر رہیں!
تازہ ترین اردو خبریں، عالمی واقعات، سائنس، ٹیکنالوجی، اور دلچسپ موضوعات کے لیے "اردو دنیا نیوز” واٹس ایپ گروپ جوائن کریں۔ جڑیں ایک ایسی کمیونٹی سے جو اردو سے محبت کرتی ہے!

گروپ جوائن کرنے کے لیے لنک پر کلک کریں:
🔗 اردو دنیا نیوز واٹس ایپ گروپ

متعلقہ خبریں

Back to top button