
برلن، 14جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جرمنی کی خارجہ انٹلیجنس ایجنسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ اپنے خلیفہ کے بغیر بھی اب بھی اتنی ہی مضبوط ہے جیسے پہلے تھی۔ ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ اس نے خود کو ایک طاقتور نیٹ ورک میں تبدیل کرلیا ہے۔جرمنی کی #خارجہ انٹلیجنس ایجنسی کے سربراہ برنو کال نے #متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ #شدت پسند #تنظیم #اسلامک اسٹیٹ (داعش) اپنے خلیفہ کے بغیر بھی اب بھی اتنی ہی مضبوط ہے جیسی پہلے تھی۔
ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ اس نے خود کو ایک طاقتور نیٹ ورک میں تبدیل کرلیا ہے۔جرمن انٹلیجنس ایجنسی کے سربراہ کا یہ بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ شاذ و نادر ہی انٹرویو دیتے ہیں۔ اس انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکا میں نائن الیون کے واقعے کے بیس برس گزر جانے کے باوجود بھی ورلڈ آرڈر کو دہشت گرد ی سے حقیقی خطرہ برقرار ہے۔جرمن خارجہ انٹلیجنس ایجنسی کے سربراہ برنو کال نے ایک جرمن روزنامہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ حالانکہ #امریکا اور #یورپ میں اس طرح کے بڑے دہشت گردانہ حملے حالیہ برسوں میں نہیں ہوئے جیسا کہ دو دہائی قبل دیکھنے کو ملے تھے تاہم ’’اسلامی دہشت گردی نے خود کو پہلے سے زیادہ مضبو ط کرلیا ہے اور اس سے انسانی زندگی کی خطرہ لاحق ہے۔
#دہشت گردوں کی تعداد اور ان سے درپیش خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔برنو کال کا کہنا تھا کہ بلاشبہ گزشتہ چند برسوں کے دوران اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے خلاف جنگ میں ہمیں بڑی #کامیابیاں ملی ہیں اور بالخصوص سن 2019 میں داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر بغدادی کی ہلاکت اور شام اور عراق میں ایک نیم ریاستی حیثیت کے طور پر خلافت کا انہدام ایک بڑی کامیابی تھی۔
تاہم اس کے بعد داعش نے اپنے نیٹ ورک کو #القاعدہ کی طرح ہی مختلف گروپوں یا حصوں میں منقسم کر دیا اور اس کی ذیلی تنظیمیں اب بھی پھیل رہی ہیں۔جرمن خارجہ انٹلی جنس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بیس برس گزر جانے کے باوجود بھی ورلڈ آرڈر کو دہشت گرد ی سے حقیقی خطرہ برقرار ہیجرمن خارجہ انٹیلی جنس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسلامک اسٹیٹ جیسی دہشت گرد تنظیموں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے۔
یہ ہے ریاستی طاقت کی اجارہ داری کا نفاذ، ریاستی ڈھانچوں کا قیام، سلامتی کی ضمانت۔انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں یورپی ممالک اور مغربی طاقتیں برکینا فاسو، نائیجر اور #نائیجیریا جیسے ممالک کی مدد کرسکتی ہیں۔



