سوریہ نمسکار کے پروگراموں میں شامل نہ ہوں مسلم بچے، حکومت فیصلہ واپس لے:مسلم پرسنل لاء بورڈ
نئی دہلی، 4 جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے منگل کو کہا کہ مسلم کمیونٹی کے بچوں کو سوریہ نمسکار پروگراموں میں حصہ نہیں لینا چاہئے کیونکہ سورج کی پوجا کرنا اسلام کے مطابق نہیں ہے۔پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے بھی کہا کہ حکومت کو ملک کی سیکولر اقدار کا احترام کرنا چاہیے اور اس سے متعلق گائیڈ لائنس کو واپس لینا چاہیے۔
مولانا رحمانی نے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر، کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے،ہمارا آئین انہی اصولوں کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ آئین ہمیں سرکاری تعلیمی اداروں میں کسی مخصوص مذہب کی تعلیمات دینے یا کسی مخصوص گروہ کے عقائد کی بنیاد پر تقریبات منعقد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ موجودہ حکومت اس اصول سے انحراف کر رہی ہے اور اکثریتی طبقے کی سوچ اور روایت کو ملک کے تمام طبقات پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
رحمانی کے مطابق وزارت تعلیم نے 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر 30 ریاستوں میں سوریہ نمسکار کا ایک پروجیکٹ چلانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں پہلے مرحلے میں 30,000 اسکولوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ یہ پروگرام یکم جنوری سے 7 فروری 2022 تک تجویز کیا گیا ہے اور 26 جنوری کو سوریہ نمسکار پر ایک کنسرٹ کا بھی منصوبہ ہے۔



