سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

چیونٹی کے کاٹنے پر اسے ماریں نہیں بلکہ شکر ادا کریں۔

چیونٹی کے کاٹنے پر اسے ماریں نہیں بلکہ شکریہ ادا کریں، کیونکہ۔۔۔قرآنِ پاک میں چیونٹی کا ذکر موجود ہے، اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک پوری سورۃ (سورۃ النمل) کا نام چیونٹی کے نام پر رکھا گیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار قسم کے جانوروں کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔

چیونٹی، شہد کی مکھی، ہُدہُد (پرندے) اور سوردی (چڑیا نما باز)۔(حدیثِ احمد 3066، ابو داؤد 5267)ویسے تو ہم مسلمانوں کے لیے الحمدللہ نبی کریم کی احادیثِ ہی کافی ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے، لیکن آئیے اس جاندار کی سائنسی خصوصیات کے بارے میں بھی کچھ جانتے ہیں۔

چیونٹی کے کاٹنے کے فوائد

ہم میں سے اکثر چیونٹی کے کاٹتے ہی اسے مسل کر مار دیتے ہیں، اور یہاں وہ غلطی کرتے ہیں۔اولاً تو چیونٹی کو مارنا حرام ہے، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، وہ ایک جاندار ہے۔ لیکن ہمیں اس کے کاٹنے پر اس کا دل سے شکریہ بھی ادا کرنا چاہئیے، کیونکہ اس کے جو فوائد ہیں وہ آپ کو سبحان اللہ کہنے پر مجبور کردیں گے۔

چیونٹی جب کاٹتی ہے وہ خون کی گردش کو متحرک کرتی ہے اور خون کے سرخ خلیات کی تعداد میں اضافہ کرتی ہے، جس کا اثر براہ راست جسم کی سرگرمی اور توانائی پر ہوتا ہے۔جب انسانی جسم کو ایک ہی جگہ پر ایک سے زیادہ بار تکلیف دی جائے تو جلد سیروسس کا شکار ہو جائے گی، جس سے بیکٹیریا کے خلاف زیادہ مزاحمت پیدا ہوگی، اور جلد زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے کے قابل ہوجائے گی۔

بہت سے لوگوں کے جسم میں مختلف جگہوں پر چیونٹیوں کے کاٹنے سے خون جم جاتا ہے جو شریانوں کو زہر کے خلاف مزاحمت کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ اس طرح یہ جگر کی مدد کرتے ہوئے اس پر بوجھ کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔

چیونٹی کا کاٹنا ڈائٹنگ کی بہترین شکل ہے، جب مادہ چیونٹی کاٹتی ہے تو ایک آیئونک لعاب کی مقدار خارج کرتی ہے، اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ لعاب اس جگہ پر موجود تمام چربی کو جلا دیتا ہے۔مثال کے طور پر، اگر متاثرہ عضو بازو ہے تو تھوک آہستہ آہستہ پورے بازو میں پھیل جائے گا اور اس طرح یہ 99 فیصد چربی کو جلا دے گا جو بازو میں پائی جاتی ہیں۔

چیونٹیاں اناج کیسے جمع کرتی ہیں
سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ چیونٹیاں اناج اور بیجوں کو جمع کرنے کے بعد ان کو زمین میں لے جانے اور انہیں زمین کے اندر اپنے بِلوں میں رکھنے سے پہلے دو حصوں میں توڑ دیتی ہیں، کیونکہ اگر اناج و بیج دو حصوں میں تقسیم نہ کیا جائے تو وہ زمین کے اندر ہی پھوٹ جاتا ہے ہرا ہوجاتا۔ 
چیونٹیاں دھنیا کے بیج کو چار حصوں میں تقسیم کرتی ہیں، کیونکہ ایک دھنیا کا بیج ہی ہے جو دو حصوں میں بٹنے کے بعد بھی پھوٹ سکتا ہے، اس لیے چیونٹیاں اس کو چار حصوں میں کاٹ کر تقسیم کرتی ہیں پھر اپنے بلوں کے اندر محفوظ کر کے رکھتی ہیں…. سوچنے کی بات..! ان سب کو یہ کس نے سکھلایا…؟ یقیناً میرے اور آپ کے بلکہ ساری کائنات کے وحدہ لاشریک رب نے ۔اس لیے ہمیشہ اللہ کی حمد ثنا کیجیئے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button