مليشیا کے مردوں سے شادی نہ کریں : لیبیا میں لڑکیوں کو خبردار کرنے کی نئی مہم
لیبیا میں مليشیا کے مردوں سے شادی کے خلاف نئی آگاہی مہم
تریپولی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) لیبیا میں حال ہی میں ایک آن لائن سماجی مہم تیزی سے پھیل رہی ہے جس کا مرکزی پیغام ہے: "مليشیا کے مردوں کے ساتھ شادی نہ کرو”۔ یہ مہم اس وقت سامنے آئی جب مختلف علاقوں میں خواتین کے خلاف تشدد اور حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا اور ان واقعات میں بعض مسلح گروہوں کے اراکین کے ملوث ہونے کے الزامات لگے۔ مہم خاص طور پر لڑکیوں کو خبردار کرتی ہے کہ وہ ایسے مردوں کے ساتھ تعلقات یا شادی سے گریز کریں جو مليشیا سے وابستہ ہوں یا اسلحہ رکھتے ہوں، چاہے وہ کتنے ہی مادی فوائد، تحفظ یا پرتعیش زندگی کا وعدہ کیوں نہ کریں، کیونکہ ایسا ماحول غیر محفوظ اور کشیدگی سے بھرا ہوتا ہے۔
یہ مہم اس وقت زیادہ توجہ کا مرکز بنی جب مشہور لیبیائی مواد ساز خنساء المجاہد کو قتل کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان کی موت ممکنہ طور پر ان کے شوہر سے انتقام کے طور پر ہوئی، جو شہر الزاویہ کے ایک بااثر رہنما اور سابقہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رہے ہیں۔ اسی طرح ایک اور افسوسناک واقعے میں مليشیا کے معروف رہنما "العمّو” احمد الدباشی کی بیوی کی نعش ان کے گھر کے باغ میں دفن شدہ حالت میں ملی، اور اس قتل کا الزام بھی انہی کے شوہر پر لگایا گیا۔
مہم کے حامی سرگرم کارکن یوسف الجازوی نے اپنے پیغام میں لڑکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "اے لڑکیو! مليشیا کے مردوں سے شادی نہ کرو، کیونکہ پیسہ، ہتھیار اور عالیشان گاڑیاں استحکام کی ضمانت نہیں ہوتے۔ جو شخص مستقل جھگڑوں، تنازعات اور کشیدگی میں رہتا ہے، وہ کبھی بھی آپ کو سلامتی اور سکون فراہم نہیں کر سکتا۔” ایک اور کارکن میمی محمد نے سوال اٹھایا کہ آخر کوئی کیسے توقع کر سکتا ہے کہ مليشیا کے رکن سے شادی خوشگوار انجام تک پہنچے گی؟
مہم میں اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ بعض والدین دولت، اسٹیٹس، یا تحائف کے لالچ میں اپنی بیٹیوں کی شادی ایسے مردوں سے کر دیتے ہیں، مگر وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اس قسم کے تعلقات کے اختتام پر سب سے بڑی قیمت خواتین اور بچیوں کو ہی چکانی پڑتی ہے۔ لیبیا میں بڑھتے ہوئے تشدد، قانون کے کمزور نفاذ اور مسلح افراد کے سزا سے بچ جانے کے رجحان نے لوگوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ مہم عوامی سطح پر ایک مضبوط آواز بن کر ابھر رہی ہے۔



