سرورقگوشہ خواتین و اطفال

جہیز معاشرے کی تباہی اور بربادی کا ایک سبب‎

افراح عمران

برصغیر میں جہیز کی روایت: ایک تلخ حقیقت

برصغیر پاک و ہند میں جہیز لینے کا رواج عام ہو چکا ہے۔ کسی لڑکی کی شادی پر لڑکے والے جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں اور اسے شادی کا لازمی جزو سمجھ لیا گیا ہے۔ گھر، گاڑی، نقد رقم اور قیمتی سامان جیسے مطالبات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ اگر یہ پورے نہ ہوں تو رشتہ مسترد کر دیا جاتا ہے، بغیر اس بات کی پرواہ کیے کہ یہ مطالبات شرعی اور اخلاقی طور پر درست بھی ہیں یا نہیں۔

تعلیم یافتہ لڑکے اور جہیز کا تقاضا

آج کل ہائی فیملیز سے لے کر مڈل کلاس تک والدین اپنی اولاد، خاص طور پر لڑکوں کو تعلیم دلواتے ہیں۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ کم پڑھے لکھے ہوں یا زیادہ، دونوں صورتوں میں جہیز کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اگر جہیز کم ہو تو لڑکی کو سسرال میں عمر بھر طنز و طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جہیز میں شامل اشیاء اور والدین کی مجبوری

جہیز میں صوفہ سیٹ، الیکٹرانک اشیاء، برتن اور دیگر گھریلو سامان شامل کیا جاتا ہے۔ والدین چاہے مالی طور پر کمزور ہوں، پھر بھی قرض لے کر، اپنی ضروریات قربان کر کے بیٹی کے لیے جہیز تیار کرتے ہیں، صرف اس خوف سے کہ کہیں ان کی بیٹی کو سسرال میں ذلت نہ سہنی پڑے۔

نکاح کے بعد ذمہ داری کس کی؟

اسلام کے مطابق نکاح کے بعد بیوی کی مکمل ذمہ داری شوہر پر ہوتی ہے۔ ایسے میں جہیز لینا نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ خلافِ اسلامی اصول ہے۔ البتہ والدین اگر اپنی خوشی اور استطاعت کے مطابق کچھ دینا چاہیں تو یہ ان کی مرضی ہے، اسے مطالبہ نہیں بنانا چاہیے۔

تحائف، عیدی اور غیر ضروری توقعات

جہیز کے علاوہ رشتہ طے ہونے کے بعد عید، سالگرہ اور دیگر مواقع پر بھی لڑکی والوں سے مقابلے کی توقع رکھی جاتی ہے۔ اگر تحفہ چھوٹا ہو تو باتیں بنائی جاتی ہیں، جو لڑکی اور اس کے والدین کے لیے شدید ذہنی اذیت کا سبب بنتی ہیں۔ تحفہ چھوٹا ہو یا بڑا، اصل اہمیت محبت اور خلوص کی ہونی چاہیے۔

جہیز کی اصل تاریخ اور اسلامی موقف

جہیز دراصل ہندو رسم ہے، جو وراثت میں لڑکی کو حصہ نہ دینے کے بدلے دی جاتی تھی۔ جبکہ اسلام نے لڑکی کو وراثت میں واضح حق دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کو دیا گیا سادہ سامان جہیز کی دلیل نہیں بلکہ کفالت کی ایک مثال تھی، جسے آج غلط رنگ دے دیا گیا ہے۔

شادی کو آسان بنائیے، مشکل نہیں

جہیز اور فضول رسموں نے نکاح کو مشکل بنا دیا ہے۔ شادی میں غیر ضروری تقاریب، دکھاوا اور مقابلہ بازی والدین پر بوجھ بن جاتی ہے۔ اسلام سادگی کو پسند کرتا ہے، اور وہ نکاح زیادہ بابرکت ہے جس میں کم سے کم بوجھ ہو۔

اصل مہذب انسان کون؟

مہذب اور ماڈرن وہ نہیں جو مہنگے کپڑے، گھڑیاں یا زیورات پہنے، بلکہ وہ ہے جس کی سوچ، اخلاق اور رویہ اچھا ہو، جو اپنی استطاعت میں رہ کر زندگی گزارے اور دوسروں پر بوجھ نہ بنے۔

آئیے ہم سب عہد کریں کہ نہ جہیز کا مطالبہ کریں گے، نہ اس رسم کو فروغ دیں گے۔ شادی کو آسان بنائیں گے، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک بہتر، صاف اور انسان دوست معاشرے میں زندگی گزار سکیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button