صحافت برائے صحت کے موضوع پر ڈاکٹر محمد مصطفےٰ علی سروری کی کتاب منظر عام پر آگئی
ڈاکٹر محمد مصطفےٰ علی سروری کی یہ کتاب 25 مختلف دلچسپ صحت اور صحت سے جڑے موضوعات کا احاطہ کرتی ہے
حیدرآباد، 14 فروری (پریس نوٹ) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت نے عالمی ادارے صحت یونیسیف کے تعاون سے سال 2018ء میں ہیلتھ جرنلزم کے عنوان سے انڈر گریجویٹ و پوسٹ گریجویٹ کورسیز کی سطح ایک پرچہ روشناس کروایا تھا۔ گذشتہ 6 برسوں سے ہیلتھ جرنلزم کا پرچہ کامیابی کے ساتھ طلبائے صحافت کے نصاب میں پڑھایا جارہا ہے۔ اردو صحافت ہی نہیں بلکہ ہر زبان کی صحافت میں خاص طور پر یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ صحت کے موضوعات پر رپورٹنگ کے دوران غیر ذمہ دارانہ رویہ اور نقطۂ نظر روا رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انگریزی کی طرح اردو زبان میں طلبائے صحافت کو صحافت برائے صحت کے موضوع پر مطالعہ کے لیے کسی طرح کی کوئی باضابطہ کتب بھی موجود نہیں ہیں۔
ایسے میں شعبہ ترسیل عامہ و صحافت کے اسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد مصطفےٰ علی سروری نے صحافت برائے صحت پر طلبائے صحافت اور کارگزار صحافیوں کے لیے ایک باضابطہ کتاب تحریر کی ہے جو ان کی 18 ویں کتاب ہے۔ اس کتاب کو تعمیر پبلیکشن نے آئی ایس بی این نمبر کے ساتھ طبع کیا ہے۔
ڈاکٹر محمد مصطفےٰ علی سروری کی یہ کتاب 25 مختلف دلچسپ صحت اور صحت سے جڑے موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ کتاب میں بین الاقوامی صحافیوں کے تجربات کو بھی شامل کیا گیا ہے جو کہ صحت کے شعبے میں کورونا کے دور سے پہلے سے کارگذار ہیں۔ اس کے علاوہ ہیلتھ کی رپورٹنگ کیسے کریں، ٹیکہ اندازی کے بعد پیش آنے والے ناگہانی حالات، ہندوستان میں صحت کا منظر نامہ، ہیلتھ کیئر کی تحقیقاتی رپورٹنگ، فیک نیوز کا چیالنج اور کیا صحافیوں کو بیماریوں سے واقف ہونا ضروری ہے جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ 176 صفحات پر مشتمل یہ کتاب پرنٹ آن ڈیمانڈ کی بنیادوں پر تعمیر پبلی کیشنز سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ جبکہ بین الاقوامی قارئین اس کتاب کو امیزان کے پلیٹ فارم سے آن لائن بھی حاصل کرسکتے ہیں۔



