بین الاقوامی خبریںسرورق

منشیات کی اسمگلنگ، پاکستان میں قید چیک جمہوریہ کی ماڈل بری کردی گئی

اسلام آباد، ۲؍ نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چیک جمہوریہ کی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان میں قید ٹیریزا ہلوسکووا  Tereza Hluskova کو بری کر دیا گیا ہے۔ اس چیک ماڈل کو 2019ء میں منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں آٹھ برس سے زائد کی سزائے قید سنائی گئی تھی۔چیک جمہوریہ کی وزارت خارجہ نے ملکی ماڈل ٹیریزا ہلوسکووا کے وکیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں پاکستان کی ایک عدالت نے بری کر دیا ہے۔

اس پچیس سالہ خاتون کو جنوری دو ہزار اٹھارہ میں لاہور ایئر پورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب ان کے بیگ سے نو کلوگرام ہیروئن برآمد ہوئی تھی۔اس وقت پاکستانی کسٹمز حکام نے ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں ملزمہ کے بیگ سے ہیروئن برآمد ہوتی ہوئی دیکھی جا سکتی تھی۔ یہ چیک ماڈل لاہور ایئر پورٹ سے ایک فلائٹ کے ذریعے متحدہ عرب امارات جا رہی تھی۔

بعد ازاں مقدمہ چلا تو ہلوسکووا کو آٹھ سال اور آٹھ ماہ قید کی سزا کے ساتھ ساتھ جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔ملزمہ کا کہنا تھا کہ کسی دوسرے شخص نے ان کے بیگ میں یہ ہیروئن رکھی تھی اور انہیں اس کا علم نہیں تھا۔ٹیریزا ہلوسکووا نے اپنی سزا کے خلاف اپیل اپریل دو ہزار انیس میں دائر کی تھی۔

پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اس غیر ملکی ماڈل کی اپیل کی سماعت کی۔چیک وزارت خارجہ کی طرف سے کی جانے والی ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے، (ہلوسکووا کے) وکیل کی معلومات کی بنیاد پر ہم یہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ عدالت نے اپیل پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اس چیک شہری کو بری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس ٹویٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فیصلے پر عمل درآمد کے چند دنوں کے اندر ہی انہیں جیل سے رہائی ملنی چاہیے۔ہلوسکووا ایک ماڈل کی حیثیت سے پاکستان گئی تھیں اور وہاں تین ماہ تک قیام کے بعد متحدہ عرب امارات کے لیے روانہ ہو رہی تھیں۔ وہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید تھیں۔

پاکستان ڈرگ اسمگلنگ کے لیے ان راستوں کا حصہ ہے، جن کے ذریعے منشیات پوری دنیا میں اسمگل کی جاتی ہیں۔ یہ راستے افغانستان سے وسطی ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ تک جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button