بین الاقوامی خبریںسرورق

احتجاج کے دوران چوتھی منزل پر لٹکا شخص پولیس کی 6 گولیاں لگنے کے باوجود زندہ بچ گیا

عامر نے بتایا کہ وہ مجھے یہ کہتے رہے کہ ہم تمہیں مرنے نہیں دیں

ڈھاکہ ، 20اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)بنگلہ دیش میں گزشتہ دنوں ہونے والے حکومت مخالف احتجاج کے دوران عمارت کی چوتھی منزل پر لٹکا شخص پولیس کی 6 گولیاں لگنے کے باوجود معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا۔بنگلادیشی اخبار کے مطابق 23 جولائی کو بنگلہ دیش میں انٹرنیٹ سروس بحال ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک شخص کو زیر تعمیر عمارت پر لٹکا دیکھا جاسکتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کے بعد دو پولیس اہلکار اس زیر تعمیر عمارت میں آتے ہیں جس کے بعد گولیاں چلنے کی آواز آتی ہے، اس دوران پولیس اہلکار پر عمارت سے لٹکے شخص کا نشانہ لیتے نظر آتے ہیں۔اس ویڈیو میں نظر آنے والے مناظر سے لگتا ہے کہ عمارت سے لٹکا ہوا شخص گولیوں کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا ہے۔مقامی صحافی کی جانب سے 24 جولائی کو اس زیر تعمیر عمارت کا دورہ کرنے پر وہاں خون کے دھبے بھی نظر آتے ہیں، تاہم ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ملتیں۔تاہم اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا۔اخبار کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کا نام عامر ہے جس نے واقعے کے حوالے سے بتایا کہ وہ نماز پڑھ کر گھر جارہا تھا کہ سکیورٹی فورسز اور پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کردی جس کی وجہ وہ وہاں سے بھاگا اور ایک زیر تعمیر عمارت کی چوتھی منزل پر چھپ گیا۔

عامر نے کہا کہ ایک موقع پولیس اہلکار عمارت میں داخل ہوگئے جس کی وجہ وہ عمارت کی دیوار کے ساتھ لٹک گیا تاہم کچھ دیر بعد 2 پولیس اہلکاروں نے اسے وہاں دیکھ لیا جس پر ایک پولیس اہلکار نے اسے کہا کہ وہ عمارت سے کود جائے ورنہ اسے گولی ماردی جائے گی۔اس کے بعد پولیس کی جانب سے عامر پر گولیاں چلائی گئیں جن میں سے 6 گولیاں اس کی ٹانگوں پر لگیں، تاہم عامر اس وقت تک ایک راڈ کے سہارے لٹکا رہا جب تک پولیس وہاں سے چلی نہیں گئی، اس کے بعد وہ تیسری منزل پر آگرا۔عامر نے بتایا کہ اس نے مدد کے لیے چیخ و پکار کی لیکن فائرنگ کی آواز میں اس کی آواز کسی نے نہیں سنی۔کم و بیش 3 گھنٹے بعد عمارت میں داخل ہونے والے ایک طالب علم نے عامر کو دیکھا، اس وقت تک عامر کا کافی خون بہہ چکا تھا، قریبی اسپتال کے 2 ڈاکٹر بھی جو اس علاقے میں ہی موجودتھے عامر کی مدد کو پہنچے جنہوں نے اس کے زخموں سے بہتے خون کو روکنے کی کوشش کی۔

عامر نے بتایا کہ وہ مجھے یہ کہتے رہے کہ ہم تمہیں مرنے نہیں دیں، بس اپنی آنکھیں کھلی رکھنا۔عامر کو اسپتال لے جایا گیا جہاں اسے ابتدائی طبی دینے کے بعد ڈھاکہ میڈکل کالج منتقل کردیا گیا جہاں 3 دن تک اسے زیر علاج رکھنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا کیونکہ اسپتال میں ایسے مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی جن کی حالت خطرے میں تھی۔ڈاکٹروں کے مطابق اگر عامر کو اسپتال پہنچانے میں 5 سے 10 منٹ کی بھی تاخیر ہوجاتی تو زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے اس کی جان جاسکتی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button