قومی خبریں

بیدر کے مدرسہ میں گھس کر دسہرہ کی پوجا کی گئی،مقدمہ درج

بنگلورو:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دسہرہ جلوس میں شامل ایک ہجوم مبینہ طور پر کرناٹک کے ضلع بیدر کے ایک تاریخی مدرسہ میں گھس پڑا اور متنازعہ نعرے لگاتے ہوئے عمارت کے ایک حصہ میں پوجا بھی کی ۔ پولیس نے اس سلسلہ میں 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے تاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے ۔ بیدر کی مسلم تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ کل تک ملزمین کو اگر گرفتار نہیں کیا گیا تو وہ احتجاج کریں گے ۔ 1460 ء میں بیدر میں تعمیر کردہ محمود گاواں کا مدرسہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت ہے ۔ تاریخی ورثہ کے حامل یہ مدرسہ قومی اہمیت کے حامل عمارتوں کی فہرست میں بھی ہے ۔

پولیس نے بتایا کہ  ہجوم نے مدرسہ کا قفل توڑدیا اور اندر داخل ہوگئے ۔ ہجوم نے مدرسہ کی سیڑھیوں پر ٹھہر کر جئے شری رام اور ہندو دھرم جئے کے نعرے لگائے ۔ بعد ازاں عمارت کے ایک حصے میں پوجا بھی کی ۔ اس واقعہ کے ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ہجوم مدرسہ کی سیڑھیوں پر ٹھہرا ہوا ہے ۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے ۔ بیدر کی مسلم تنظیموں نے انتباہ دیا ہے کہ خاطیوں کو فوری گرفتار نہیں کیا گیا تو کل /7 اکٹوبر کو جمعہ کی نماز کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا ۔ صدر مجلس بیرسٹر اویسی نے اس واقعہ کیلئے کرناٹک کی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button