پروازیں معطل، واپسی ناممکن: تل ابیب کے محفوظ بنکر میں پناہ لینے پر مجبور ڈچ سیاح
جوائس نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے اسرائیل آئی تھیں
تل ابیب 03 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پروازوں کی بندش کے باعث اسرائیل کے شہر تل ابیب میں متعدد غیر ملکی سیاح عوامی بنکروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون جوائس نے اسرائیل میں پھنس جانے کے بعد اپنے حالات بیان کیے ہیں۔
جوائس نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے اسرائیل آئی تھیں اور یکم مارچ کو وطن واپس روانہ ہونا تھا، تاہم پروازیں منسوخ ہونے کے سبب وہ اب تک وہیں مقیم ہیں۔ ان کے مطابق جب حالات زیادہ خراب ہو جاتے ہیں تو وہ بنکر میں آ کر قیام کرتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بنکر کے اندر ایک چھوٹا سا خیمہ لگا رکھا ہے اور دیگر سیاحوں سے کمبل اور تکیے حاصل کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جگہ بچوں کے لیے زیادہ محفوظ محسوس ہوتی ہے کیونکہ یہاں دھماکوں کی آواز سنائی نہیں دیتی۔
جوائس نے انتظامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اوپر بیت الخلا موجود ہے جسے روزانہ صاف کیا جاتا ہے اور کھانے پینے کی اشیاء بھی دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فون پر موصول ہونے والی اطلاع سے پتا چل جاتا ہے کہ کب باہر جانا محفوظ ہے اور کب نہیں۔
دوسری جانب اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران شہری علاقوں کو نشانہ بناتا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کو مضبوط قرار دیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ طویل عرصے سے یہ کہتے آئے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے کسی قسم کا خطرہ موجود نہیں تھا اور خطے میں خونریزی کی ذمہ داری مخصوص حلقوں پر عائد ہوتی ہے۔
مارکو روبیو نے کہا تھا کہ انہیں اسرائیلی کارروائی کا علم تھا اور خدشہ تھا کہ ایران امریکی افواج کو نشانہ بنا سکتا ہے، اسی لیے پیشگی قدم اٹھایا گیا۔
موجودہ صورتحال کے باعث خطے میں غیر یقینی کیفیت برقرار ہے، بیرون ملک سے آنے والے سیاح واپسی کے منتظر ہیں جبکہ عالمی برادری حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔



