دت بھارتی اور فحش نگاری-نثار احمد صدیقی
ایسی منزل بھی ہے جہاں پہنچ کر انسان جنسی احساسات سے قطعی بے گا نہ ہو جاتا ہے
آج جب ادب اور زندگی نظریے اتنے عالم گیر وسعت کے حامل ہو چکے ہیں ، یہ ممکن نہیں کہ ایک ادیب خود کو زندگی سے بےگانہ رکھ کر ادب کی خدمت کر سکے ۔ کتنے ہی نظریوں کے تحت مختلف ادیبوں نے خود کو مختلف نظریاتی اسکول سے وابستہ کر لیا ہے۔ یہ نظریاتی اسکول حیات انسانی کی تمام تر وسعتوں کو شکار کرتے ہیں۔ اور صرف اتناہی نہیں بلکہ زندگی کی ان تمام پے چید گیوں اور ذہنی انسانی سے متعلق تمام راز ہائے سربستہ کو شعوری اور غیر شعوری طور پر نمایاں کرتے ہیں۔حیات انسانی کی ان نظریاتی اور طبقاتی کش مکش نے مختلف قسم کے اصول کو جنم دیا ہے۔ یہ اصول نہ صرف یہ کہ انسان کی سعی پہیم سے عالم وجود میں آئے بلکہ ان کے پیچھے تاریخ انسانی کی عظیم وسعتیں کار فرما ہیں۔
تاریخ انسانی کا تجزیہ کرنے کے بعد اور ان ادوار کا جائزہ لینے کے بعد جن سے ذہن انسانی متاثر ہوا۔ اور درجہ بدرجہ ارتقا کی منزلیں طے کرتا ہوا قدیم وجدید اور عالم گیر وقتوں کی تہوں کو چیرتا ہوا یہاں تک آیا۔ نہیں کہا جاسکتا کہ حیات انسانی کا یہ قافلہ کہاں جا کر قیام پذیر ہو۔ ادب اور موجودہ ادب جس کا تعلق زندگی اور زندگی کی ان بے پناہ قدروں سے ہے۔ کن کن نظریوں سے تعلق رکھتا ہے یہاں اس پر بحث کا موقع نہیں ۔ جہاں تک نظریاتی اور ذہنی ارتقا کا سوال ہے اس سلسلے میں موجودہ دور میں ہمیں جو عظیم شخصیت نظر آتی ہے وہ کارل مارکس کی ہے۔ کارل مارکس نے جس طرح ذہن انسانی کا تجزیہ کیا ہے اس سے پہلے ہمیں کہیں نظر نہیں آتا۔
اس نے جدلیاتی مادیت اور طبقاتی کش مکش کا فلسفہ دیگر لوگوں کو ایک نئی سوجھ بوجھ اور نئے شعور سے روشناس کرایا۔ لیکن یہ تو وہ اصول ہوئے جن کا تعلق براہ راست انسان کے مادی حالات سے ہے۔ لیکن کچھ ایسے بھی مفکر پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے ذہن انسانی کا تجزیہ انسان کی داخلی اور نفسیاتی الجھن کو پیش نظر رکھ کر کیا ہے۔ انسانی ذہن سب سے زیادہ جس چیز سے متاثرہوتا ہے وہ ہے جنسی کشش ۔ لیکن یہ تاثر ایک خاص عمر اور ایک خاص وقت ہی میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہوئے کہ عمر کی کوئی۔
ایسی منزل بھی ہے جہاں پہنچ کر انسان جنسی احساسات سے قطعی بے گا نہ ہو جاتا ہے۔ اور اگر حیات انسانی کی کوئی منزل ایسی ہے تو وہ منزل۔
موت ہی کی ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان میں جنسی خواہشات اور احساسات کی خلش آخر دم تک موجود رہتی ہے۔ یہ دوسری ہے کہ ان خواہشات کی شدت عمر کی ایک خاص منزل پر پہنچنے کے بعد ہوتی ہے، اور وہ منزل یقیناً منزل شباب ہے۔ جنسی نظریے کو ایک عالم گیر حیثیت جس شخص نے بخشی اور اس کے اکثر رموز و نکات کو آشکار کیا، وہ فرائڈ تھا۔ فرائڈ نے انسانی ذہن۔
کے مختلف درجے بنائے اور اس کی خواہشات کو ان درجوں میں تقسیم کردیا۔ فرائڈ کی یہ خدمت یقیناً ایسی ہے جو علم انسانی کے شعوری ارتقا کو کچھ نہ کچھ آگے بڑھاتی ہے۔ فرائڈ نے بہت سے اصول مرتب کیے اور انسان کی ذہنی کمزوریوں اور بیماریوں کی وجہ شعور وتحت الشعور میں تلاش کی ۔ اگر چہ اس کا یہ اصول سائنسی ہے، لیکن اس نے عالم گیر ادب کو اپنے خیالات سے بے حد متاثر کیا۔ فرائڈ کوئی ادیب نہ تھا لیکن اس کے اصول ادبی دنیا میں ایک اہم حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ جہاں تک اردو ادب کا تعلق ہے، یہ صحیح ہے کہ ہمیں لارنس ہکسلے جیسا کوئی ادیب نظر نہیں آتا لیکن ہمارے یہاں سعادت حسن منٹو عصمت چغتائی اور خدیجہ مستور جیسی عظیم ہستیاں ضرور نظر آتی ہیں ۔ جنہوں نے فرائڈ کے اصولوں کو اپنانے اور اپنے ادب میں پیش کرنے کی کوشش کی۔۔
منٹو اور عصمت چغتائی وغیرہ کے جنسی افسانوں پر تنقیدی نظر ڈالنا اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے ۔ ہم ایک ایسے فخش نگار کی طرف رجوع کر رہے ہیں جس نے جنسیات کا سہارا لے کر ادب اور ادبی تخلیقات کو عریانیت کی حد تک پہنچا دیا ہے اور جس کے یہاں بازاری مذاق اور سستے قسم کے جنسی اشارے ملتے ہیں ۔ وہ ہے دت بھارتی۔۔
انگریزی ، فرانسیسی ، روسی اور امریکی ناول نگاروں اور افسانہ نگاروں نے جنسی نظریے کے تحت جتنے ناول لکھے ہیں ان کی تعداد لامحدود ہے۔ ان میں بعض ایسے بھی ناول ہیں جو سستے قسم کے مذاق کو پیش کرتے ہیں۔ لیکن ان کا فن ادبی لحاظ سے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا اور انہیں لوگ جاسوسی ناول نگاروں کی طرح ذہن سے فراموش کر دیتے ہیں۔ یعنی ان کی چیزیں اور خاص کر ان کی شخصیت لافانی نہیں ہوتی ۔ یہی حال دت بھارتی کا ہے۔ انہوں نے تقریبا تیرہ یا چودہ ضخیم ناول لکھے ہیں لیکن ان میں کوئی بھی ادب میں اضافہ نہیں ۔ ۔ چہ جائے کہ مجنوں گورکھ پوری جمیل مظہری اور مرزا رسوا نے بہت ہی کم چیزیں ادب میں پیش کیں لیکن ادب میں اپنا ایک بلند مقام حاصل کر لیا۔
کون کہہ سکتا ہے کہ زیدی کا حشر ، شکست و فتح اور شریف زادہ ادب میں لافانی و دوامی حیثیت نہیں رکھتے۔ لیکن میں بلا خوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ دت بھارتی کی ناولیں چوٹ اور زندگی جو کہ مختلف وقت اور حالات کی آئینہ دار ہیں اردو کے فخش تذکروں میں ایک زبر دست اضافہ ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ اس کا عریاں اور بازاری مذاق اس حد تک پست ہے جسے پڑھ کر سنجیدہ طبیعت آنکھیں بند کر لیتی ہیں ۔ میں دت بھارتی کے ناول ‘ چوٹ کے چند اقتباسات ناظرین کے سامنے پیش کرتا ہوں ۔ جس سے یہ اندازہ ہو جائے گا کہ دت۔بھارتی کے یہاں عریاں نگاری کتنی شرم ناک اور نفرت انگیز حد تک موجود ہے:” کیا یہ آنکھوں کی شراب کم ہے ؟ ۔
دیپ نے اسے خمار آلود نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا آشا کے دل کی۔دھڑکنیں حد سے زیادہ تیز ہوگئیں ، اور اس کے سینے کا ابھار، نفس اور ہزاروں مچلتے ہوئے جذبات چاہتے تھے کہ دیپ اسے اپنے قوی اور مضبوط بانہوں کی گرفت میں لے لے۔ اس کی ہر ادا دیپ کو اس عمل کے لیے دعوت دے رہی تھی ۔ وہ چاہتی تھی کہ آج دیپ اس کو اپنی مضبوط بانہوں میں جکڑ لے، اس کے جسم کو جھنجوڑ دے اتنا جھنجوڑے کہ اس کی ہڈیاں اور پسلیاں ایک نا معلوم درد سے تڑپ اٹھیں . وہ چاہتی تھی کہ دیپ کے گرم گرم ہونٹ اس کے گلابی ہونٹوں کی مٹھاس چوس لیں، جیسے بچے گولیاں چوسا کرتے ہیں۔ یا جیسے انگریزی فلموں میں ہیرو ہیروئین کو اپنی بانہوں میں۔جکڑ کر اسے سینے سے لگا کر اس کی جوانی کا لطف اٹھاتا ہے۔”۔
دوسری جگہ …آشا چار پائی پر ادھا لیٹ گئی۔ لیٹی ہوئی آشا کا خوب صورت سپید اور ملائم سینہ جس میں کنوار پن کی جوانی کا ابھار تھا نمایاں ہو گیا۔ اس کے اوپر کا آدھا حصہ زور پڑنے سے ابھر گیا تھا۔ دو پٹہ ایک طرف سرک گیا تھا۔ اور سینہ سانس سے۔اس طرح ابھر رہا تھا جیسے گیت سے سر ابھرتے ہیں ۔”۔
یہاں یہ بات اچھی طرح ذہن نشیں ہو جاتی ہے کہ ناول نگار نے اپنے ناولوں کے ذریعے اپنی انتہائی سطحی ذہنیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ جو اخلاقی نظریے کے تحت بھی قابل قبول نہیں ہو سکتا۔۔
ناول ” ٹرپ” میں انہوں نے فرقہ وارانہ فسادات کو جس نظر سے دیکھا ہے وہ ایک ناول نگار کے لیے موزوں نقطہ نظر نہیں ہوسکتا۔ دت بھارتی نے فسادات اور اس سے لطف اندوز ہونے والوں کا جو خا کہ پیش کیا ہے اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ انسانیت کے تابوت میں وہ آخری کیل ٹھونکنا چاہتے ہیں۔ فسادات ان کے لیے کوئی نفرت انگیز اور گھناونی چیزیں نہیں ہیں۔ بلکہ وہ ان فسادات ہی میں اپنے لیے جنسی لذت کا جواز تلاش کرتے ہیں اور ایک عام پڑھنے والے کو دعوت نظارہ شہوانیت دیتے ہیں ۔ دوسری طرف اگر ہم منٹو کے مختصر ترین افسانوں کے مجموعے "سیاہ حاشیے” کا جائزہ لیں تو یہ بات صاف ہو جائے گی کہ منٹو فسادات سے لطف اندوز نہیں ہوتا بلکہ وہ انسانیت کی لاش پر نوحہ کناں اور اشک بار ہے۔ اور یہی وہ فرق ہے جو منٹو کو، منٹو اور دت بھارتی Dutt Bharti کو ایک بازاری اور ایک تیسرے درجہ کا ناول نگاریا۔افسانہ نگار بنا دیتا ہے۔۔



