فالج اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کے کسی حصے کو خون کی فراہمی میں کمی آ جائے۔ دماغ کو آکسیجن کی فراہمی بھی کم ہونے سے صحت مند خلیے مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ فالج کے بارے میں سوچنا ڈرادینے والی بات ہے لیکن اس سے بھی اہم یہ ہے کہ اگرا نسان چوکس رہے تو وہ خود کو فالج کے متوقع حملے سے بچا سکتا ہے۔ 36 ہزار میڈیکل پروفیشنلز کی رکنیت رکھنے والی تنظیم امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی‘‘ اس شعبے میں دنیا کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔ اس کے مطابق فالج کی علامات کم از کم ایک ہفتہ پہلے ظاہر ہو نا شروع ہو جاتی ہیں‘‘۔
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فالج کے حملے اسکمک‘‘ (ischemic) یعنی خون کی فراہمی میں کمی کے باعث بھی ہوسکتے ہیں جیسا کہ خون کی نالیوں کاکمزور پڑ جانا، ان سے خون کا رسنا یا خون کے جمنے سے بہائو میں کمی جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔ اکثر کیسوں میں transient ischemic attack (TIA)‘‘ بھی ہو سکتے ہیں انہیں پیشگی حملہ کہا جاتا ہے یعنی فالج کی پیشگی علامات۔
امریکی اکیڈمی نے 2416 افراد پر تحقیق کے بعد بتایا کہ ان میں سے 549 مریضوں نے پیشگی علامات کو محسوس کیا تھا۔ اور یہ حملے سے کوئی سات دن کے اندر اندر نمایاں ہوئیں۔
ایک اور تحقیق کے مصنف ڈاکٹر پیٹر ایم راتھویل (آکسفرڈ میں ڈیپارٹمنٹ آف نیورولوجی کے ڈاکٹر آف میڈیسن) کا کہنا ہے کہ یہ جاننے کے باوجود ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مریض کو ملنے والی طبی سہولت کتنی کارگر ثابت ہو سکتی ہے، لیکن کسی بھی بڑے حملے سے کافی پہلے اگر ابتدائی علامات کے ظہور کے فوراََ بعد یا چند گھنٹوں کے اندر اندر علاج ہو جائے تو فالج سے بچنے کی امید ہے۔ تاخیر سے علاج میں شائد فائدہ نہ ہو‘‘۔ڈاکٹروں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ دیگر امراض کی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ فالج کی بھی پیشگی علامات ظاہر ہوتی ہیں جنہیں ہم فالج کا ابتدائی حملہ بھی کہہ سکتے ہیں اور اگر کوئی فرد چوکس ہے تو وہ خود کو فالج سے بچا سکتا ہے‘‘۔
چہرے کا کوئی حصہ سن ہونا
چہرے،ہاتھ یا ٹانگوں کا کوئی حصہ سن یابے جان سا محسوس ہوسکتا ہے۔یہ کیفیت محدود وقت کیلئے ہوتی ہے جیسا کہ پانچ منٹ سے بھی کم۔
آنکھوں کی بینائی کا متاثر ہونا
فالج کی ایک پیشگی علامت میں بینائی کا متاثر ہونا بھی شامل ہے ایسا ممکن ہے کہ کسی فرد کو ایک آنکھ سے دھندلا نظر آئے یا دو دو سائے نظر آئیں۔ برطانیہ میں 1300 مریضوں پر کئے جانے والے جائزے میں یہ اہم علامت پائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فالج سے پہلے ایسا لگتا تھا مگر ہم نے غور نہیں کیاکہ ا یساکیوں ہو رہا ہے‘‘۔
نیم بے ہوشی
کچھ مریضوں نے نیم بے ہوشی کی بھی شکایت کی تھی۔انہیں لگا کہ کسی نے ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کرلی ہے، جیسے دماغ مائوف ہو گیا ہو۔ اوہایئو یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر گرین شینڈوس کے مطابق دماغ کے جس حصے سے شعور کو کنٹرول کیا جاتا ہے اس حصے کو خون کی فراہمی میں کمی کی صورت میں فرد بے ہوش ہو سکتا ہے۔
سانس لینے میں دشواری
سانس کا تعلق تو آج کل کورونا سے جوڑا جارہا ہے جسے سانس لینے میں دشواری اس کا کورونا ٹسٹ کرایا جاتا ہے لیکن یہ کیفیت فالج کے دورے کی علامت بھی ہے۔ وویمنز ہیلتھ برمنگھم کی سربراہ ڈاکٹر کیتھرین ایم ریکس روڈ کے مطابق سانس لینے میں دشواری کی صورت میں فی الفور علاج کرنا چاہئے، اس صورت میں دل کے دورے کے علاوہ فالج کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
ہچکیاں
خواتین کو آنے والی ہچکیاں بھی فالج کی پیشگی اطلاع سمجھی جاتی ہیں۔ دس فیصد خواتین کو فالج سے پہلے ہچکیاں آئی تھیں۔
رویے میں تبدیلی
دماغی کیفیت میں کسی بھی وجہ سے تبدیلی آسکتی ہے لیکن اس کی طبعی وجوہات بھی ہوسکتی ہیںجیسا کہ ’’نیشنل سٹروک ایسوسی ایشن‘‘ کے مطابق، فالج سے دماغ کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جو فرد کی شخصیت اور یادداشت کوبھی کنٹرول کرتے ہیں۔ جبکہ شخصیت کا تعلق فرنٹل لوب‘‘سے بھی ہے۔ لہٰذا اگر کسی کو اپنے روئیے میں تبدیلی محسوس ہوتی ہے تو فالج کا صرف شک کرتے ہوئے ڈاکٹر سے رجوع کیجئے۔
متلی یا قے
دماغ کے ایک حصے (Cerebellum) میں سٹروک سے سر چکرانے یا متلی کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔کیونکہ خون کی نالیاں رسنے سے دما غ میں خون نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس سے ہالیوسینشین اور ہائی بلڈ پریشر کی شکایت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔٭



