صبح جلدی جاگنے سے ڈپریشن کا خطرہ کم ہوجاتا ہے
نیند کی مقدار یکساں لیکن فرق وقت کا
اچیوسٹس:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکی سائنسدانوں نے ایک اہم تحقیق کے بعد انکشاف کیا ہے کہ جو افراد رات کو جلدی سوتے اور صبح جلدی جاگنے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں ڈپریشن کا خطرہ اُن لوگوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوتا ہے جو دیر سے سوتے اور جاگتے ہیں۔
یہ تحقیق ساڑھے آٹھ لاکھ برطانوی افراد کے سونے اور جاگنے کے معمولات کا تجزیہ کرنے کے بعد کی گئی۔ تحقیق کے لیے ڈیٹا دو اہم ذرائع سے حاصل کیا گیا: معروف بایوٹیکنالوجی کمپنی 23اینڈمی اور یوکے بایوبینک، جو برطانیہ کا معتبر بایومیڈیکل ڈیٹابیس ہے۔
نیند کی مقدار یکساں لیکن فرق وقت کا
تحقیق میں یہ بات واضح ہوئی کہ تمام شرکاء روزانہ اوسطاً 7 سے 8 گھنٹے نیند لیتے تھے۔ تاہم، جو افراد جلدی سوتے اور جلدی جاگتے تھے، ان میں ڈپریشن کا خطرہ 23 فیصد کم پایا گیا۔ اس کے برعکس، دیر سے سونے اور جاگنے والے افراد میں ذہنی دباؤ کا تناسب نسبتاً زیادہ رہا۔
عادت میں تبدیلی سے مثبت اثرات
یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ جن افراد نے اپنے نیند کے اوقات کو معمولی طور پر بھی تبدیل کیا — مثلاً صرف ایک گھنٹہ جلدی سونا اور جاگنا شروع کیا — ان میں بھی ڈپریشن کے امکانات نمایاں حد تک کم ہوگئے۔
تحقیق کا ماخذ
یہ تحقیق معروف آن لائن میڈیکل جرنل جاما سائکیاٹری کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔ اگرچہ تحقیق میں دیر سے جاگنے کو براہِ راست ڈپریشن کی وجہ قرار نہیں دیا گیا، مگر اس بات کی تصدیق ضرور ہوئی ہے کہ مکمل نیند کے ساتھ ساتھ جلدی جاگنے کی عادت ذہنی صحت کے لیے ہمارے سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔



