سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

مفادات کی جنگ سے لرزتی زمین-✍️ایڈوکیٹ شیخ شاہد عرفان، ممبئی

تخلیق کائنات وکرہ ارض انسان کو قلیل مدت تک ٹھرنے دیگر آزمائش سے گزرنے کے لئے اللہ نے بنائی ہے، اس زمین کی تخلیق کا مقصد انسان کو پناہ گاہ فراہم کرنا، جہاں انسانی جسم وجان زندہ رہ سکے مذید اللہ نے ہر وہ شے اس زمین پر رکھی جس سے انسان کی نشوونما ہوتی ہے، نیز انسان اللہ کی اس بے مثال تخلیق میں غور و فکر کرتے ہوئے اللہ سے قریب تر ہوتا چلا جائے،

سیکڑوں قسم کے حیوانات و نباتات اس زمین پر موجود ہے، اپنا رزق وقت مقررہ پر حاصل کرتے ہوئے عطا کردہ زندگی کی معیاد کو پورا کرنے میں مصروف ہیں،

اسی زمین سے اپنی تمام تر ضروریات پوری کرتے ہوئے فوت ہو جاتے ہیں، کرہ ارض پر بسنے والے تمام حیوانات میں ماسوائے انسان کے کسی نے اس زمین کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا کہ أشرف المخلوقات کہا جانے والے انسان نے اسے پہنچایا ہے،

انسان کو عقل سلیم سے اللہ نے نوازہ تانکہ عقل سے وہ علم تک رسائی کرسکے مزید اللہ کے قرب تک اس کی رسائی ہو سکے فہم و ادراک سے اللہ سے آشنا ہو سکے، جس مقصد کے تحت عقل عطا کی اس مقصد کو انسان بھول گیا تاہم آج انسان اپنی‌عقلی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خوفناک مہلک اسلحہ سازی کے فروغ میں عطاء کردہ عقل کو استعمال کرتے ہوئے جدید حطرناک اسلحہ کی بڑی بڑی صنعت لگا کر انہیں بنا رہا ہے۔

نیز اس مہلک اسلحہ کو انسانوں پر استعمال کرتے ہوئے انسانی جانوں کو موت کے گھاٹ اتار رہا ہے، تباہی برپا کرنے والے گولا بارود، توپ خانے، نیوکلیر بم کی صنعت تقریباً ہر ممالک اپنی ملک میں قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں، جس ملک کے پاس جتنا اسلحہ وہ دنیا پوری میں اتنا ہی بڑا طاقتور ملک، ملکوں کی طاقت کا انحصار اسلحہ طے کرتے ہیں۔

امریکہ، روس چین، اسرائیل یہ وہ چند ممالک ہے جو دنیا پوری کو مہلک اسلحہ فراہم کرتے ہیں، نیز ان سے اپنے ملک کی معیشت کو بھی فروغ پہنچاتے ہیں، دنیا کے بیشتر ممالک ایسے طاقتور ترین ممالک سے اسلحہ خرید کر خود کو محفوظ کرنے کی جدو جہد میں مصروف رہتے ہیں۔

١٩٨٠ میں روس نے افغانستان کی سرزمین پر فوجی دستے اتارے نیز افغانستان پر غاصبانہ قبضہ کر لیا، تاہم طویل خونی جنگ افغانستان کے جنگجو روس سے لڑتے رہے، کم وبیش ١٥ لاکھ سے زائد افراد اس خونی تصادم میں ہلاک ہوئے، بلاآخر روس کو شکست سے دوچار ہونا پڑا، فتح افغانستان کو ہوئی،

یہ روس افغانستان جنگ مفاد پرستی پر مبنی تھی جو لاکھوں افراد کی جان لیکر اختتام پذیر ہوئی، ابھی جنگ کے شعلے پوری طرح بجھے بھی نہ تھے کہ ١٩٩١ میں امریکہ و امریکی اتحادی ممالک نے افغانستان میں جنگ برپا کرکے افغانستان پر غاصبانہ قبضہ کرلیا،دوبارہ ایک اور جنگ سے افغانستان کے لوگ دوبدو ہوتے رہے بیس سال پر مشتمل یہ خونی جنگ نے مزید ١٦ لاکھ افغانی باشندوں کو لقمہ اجل بنا کر افغانستان کے لوگوں کو فتح سے ہم کنار کردیا۔

امریکہ و اس کے اتحادی افغانستان میں شکست سے دوچار ہوئے، دنیا پوری نے عالمی طاقت کو رسوا ہوتے دیکھا، بہر کیف گزشتہ چالیس سالوں میں افغانستان نے دو بڑی عالمی طاقتوں کو شکست دی، ان دونوں فتوحات میں ٣٠ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے، مفاد پرست مغربی ممالک عالم اسلام پر جنگ مسلط کرنے کے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں،

اعراق میں” ویپن آف ماس ڈسٹرکشن” کو بہانا بنایا گیا اور جنگ برپا کر دی گئی١٥ لاکھ عراقیوں کو قتل کر دیا گیا، اسی طرح لبیا، سریا، لبنان، یمن ان ممالک میں جنگیں برپا کر کے لاکھوں افراد کو دنیا سے فارغ کردیا گیا، یہ تمام جنگیں خالصتاً مفاد کی غرض سے ابلیس کی سر پرستی میں برپا کی گئی تھی جو آج تک کسی نہ کسی پیراہن میں جاری وساری ہے،

جس زمین سے اللہ گلہ پیدا کرتا ہے اس زمین پر آگ برسا کر انسان نے اللہ کے غضب کو دعوت دی ہے، اللہ کی ایک صفت قھار ہے، یہ انسانوں کو یاد رکھنا چاہیے، فرمان اللہ ہے زمیں پر اکڑ کر نہ چلو، کتنا احترام لازم ہے انسان پر تاہم اس حکم اللہ کو پس پشت ڈال کر انسان نے وہ تمام حدود عبور کر لیے جس کی ممانعت اللہ نے کی ہے،

یہی زمین بروز قیامت حکم اللہ کےتحت کہے گی سورت الزلزلہ آیت نمبر ٢ ” اور زمین اپنا بوجھ باہر نکال دے گی” مذید آیت نمبر ٤ ” اور اس روز زمین اپنے حالات بیان کر دے گی” حالات یہی کچھ بیان کرے گی جو دنیا پوری میں انسان اس پر رہ کر اسے ایذا پہنچا رہا ہے،

اللہ جنگ کا حکم ظلم کے خلاف معرکہ ودیگر اللہ کے دین کو نافذ کرنے کے لئے دیتا ہے بصورت دیگر کوئی بھی جنگ کرہ ارض پر سواۓ فساد کے کچھ نہیں۔

اللہ سورت بقرہ آیت نمبر ١١ میں فرماتے ہیں " اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد مت پھیلاؤ تو کہتے ہیں، ہم تو اصلاح کر رہے ہیں، کرہ ارض پر سوائے فساد برپا کرنے کی غرض سے دور حاظر میں جنگیں برپا کی جاتی ہے، جس کے پس پشت مفاد کارفرما ہوتا ہے،

دین اسلام کو نافذ کرنے کے خاطر کرہ ارض پر کسی ایک چھوٹے علاقے میں بھی جنگ برپا نہیں ہے، ظلم وبربریت کے خلاف اگر کوئی جدوجہد کرتا ہے اسے یہ فساد برپا کرنے والے دہشت گرد کہتے ہوئے ایک جگہ متفق ہو کر اسے نست ونابود کر دیتے ہیں۔

اس کے برخلاف دجال کی ایماء پر عالمی طاقتیں اپنی خودغرضی و مفاد پرستی کی خاطر جنگیں برپا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، یوکرائن پر روس نے حملہ کرکے ایک اور فساد دنیا میں رونما کر دیا اس امریکی اتحادی ملک یوکرائن نے عراق میں اپنے فوجی دستے بھیجے تھے اور قتل وغارت گری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا،

آج وقت نے یوکرائن کو اپنے احاطے میں لے کر تنہا کر دیا جو کبھی ظالم تھا آج مظلوم ہوچکا، بہر کیف انسانی جانوں سے کھیلتی خونی جنگیں ابلیس و دجال کو قوت فراہم کرتی جارہی ہے، جس سے زمین پر فساد مسلسل چلتا رہے اور زمین ان‌جنگوں سے لرزتی رہے۔

وما علینا الاالبلاغ المبین

متعلقہ خبریں

Back to top button