آسان طریقے,خون کی کمی دور کریں
ایسے افراد جن کے خون میں ہیموگلوبن کی کمی پیدا ہوتی ہے وہ اینیما کا شکار ہو جاتے ہیں اور عام طور پر انیمیا پیدا ہونے کی درجہ ذیل وجوہات ہوتی ہیں۔
خون انسانی جسم میں ٹرانسپورٹ، پروٹیکشن اور ریگولیشن جیسے تین اہم کام سرانجام دیتا ہے اور جسم میں خون کی کمی انسانی جان کے لئے خطرناک ہو سکتی ہے اس آرٹیکل میں ہم جانیں گے کہ خون میں ہیموگلوبن کی مقدار کو قدرتی طریقے سے کیسے بڑھایا جاسکتا ہے تاکہ جسم میں خون کی کمی پْوری ہو۔ہیموگلوبین ایک پروٹین ہے جو خون کے سرخ ذرات میں پائی جاتی ہے اور خون کے سرخ ذرات کی ذمہ داری ہوتی ہے کے جسم کے تمام اعضا تک آکسیجن کو پہنچائے اور جسم سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو وصول کر کے خارج کرے۔
ہیموگلوبن کی کمی کی علامات
اگر جسم میں ہیموگلوبن کی کمی ہے تو درجہ ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں جس میں دل کی دھڑکن کا تیز ہوجانا، مسوڑھوں اور جلد کا پھیکا پڑ جانا، شدید تھکاؤت محسوس ہونا اور سستی اور کاہلی کا چھائے رہنا، پٹھوں کا کمزور پڑ جانا، سر میں بار بار درد کا ہونا وغیرہ۔
ہیموگلوبن کو بڑھانے کے طریقے
ہم اپنے جسم میں ہوموگلوبن کی کمی کو مندرجہ ذیل طریقوں سے پورا کر سکتے ہیں۔
زیادہ آئرن والے کھانے
ہیموگلوبن کی کمی کے شکار افراد زیادہ آئرن والے کھانے کھانے سے اس کمی کو پورا کر سکتے ہیں ، آئرن ہمارے جسم میں ہوموگلوبن کی پروڈکشن بڑھانے کیساتھ ساتھ خون کے سْرخ ذرات میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
گوشت، مچھلی، انڈے، خشک میوہ جات خاص طور پر کھجور اور انجیر، بروکلی، سبز پتوں والے کھانے جیسے ساگ اور پالک، سبز لوبیا، السی اور مونگ پھلی کا مکھن وغیرہ ایسے کھانے ہیں جو آئرن سے بھرپور ہوتے ہیں۔
فولیٹ والے کھانے
فولیٹ وٹامن بی کی ایک قسم ہے جو ہمارے جسم میں ہوموگلوبن کی مقدار بڑھانے میں انتہائی اہم کردار سرانجام دیتی ہے اور اگر ہم اپنے کھانوں میں ایسے کھانے نہیں کھا رہے جو فولیٹ سے بھر پور ہوں تو جہاں انیمیا جیسی بیماری کا شکار ہونے کے خدشات بڑھتے ہیں وہاں فولیٹ کی کمی خون کے سْرخ ذرات کو میچور نہیں ہونے دیتی۔
گائے کا گوشت، پالک، چاول، مونگ پھلی، سْرخ لوبیا وغیرہ ایسے کھانے ہیں جو فولیٹ سے بھرپور ہوتے ہیں، ان کھانوں کے علاوہ آپ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے فولیٹ سپلیمینٹ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
آئرن جذب کرنے کی صلاحیت بڑھانے والے کھانے
خون کی کمی کو پورا کرنے کے لئے جہاں زیادہ آئرن والے کھانے کھانا ضروری ہیں وہاں ایسے کھانے کھانا بھی ضروری ہے جو جسم میں آئرن کو جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں۔
وٹامن سی سے بھرپور کھانے جیسے کینو، مالٹا، مسمی، امرود، سبز پتوں والی سبزیاں وغیرہ ہمارے جسم میں آئرن جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ایسے کھانے جو وٹامن اے اور بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتے وہ بھی جسم کے اندر آئرن کو جذب کرنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔
آپ وٹامن اے مچھلی،گردوں، کدو، شکر قندی اور کیل وغیرہ کھانے سے حاصل کر سکتے ہیں اور ایسی سبزیاں اور پھل جن کا رنگ سْرخ ، پیلا، اور مالٹا ہو سے بیٹا کیروٹین حاصل کی جاسکتی ہے جیسے گاجر، حلوہ کدو، شکرقندی، آم وغیرہ۔
نوٹ: وٹامن اے کی کمی وٹامن اے کے سپلیمنٹ کھانے سے بھی پوری کی جاسکتی ہے مگر وٹامن اے کی زیادہ مقدار استعمال کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
ہیمو گلوبن کی کمی کی وجوہات
ایسے افراد جن کے خون میں ہیموگلوبن کی کمی پیدا ہوتی ہے وہ اینیما کا شکار ہو جاتے ہیں اور عام طور پر انیمیا پیدا ہونے کی درجہ ذیل وجوہات ہوتی ہیں۔
جن میں آئرن، وٹامن بی 12، اور فولیٹ کی کمی، چوٹ لگنے یا کسی دوسری وجہ سے زیادہ خون کا بہہ جانا، کینسر، گردوں میں خرابی، جگر میں خرابی، ہارمونز کی کمی، تھیلیسیما جو خون میں ہیموگلوبن پیدا ہونے سے روکتی ہے، اور ایسی بیماریاں جو خون کے سْرخ ذرات اور ہوموگلو بن کو پیدا نہیں ہونے دیتی۔ہیموگلوبن کی کمی تمباکو نوشی ، پھیپھڑوں میں خرابی، جلد کے جل جانے اور بہت زیادہ ورزش کرنے سے بھی پیدا ہو سکتی ہے۔نوٹ: خون کی کمی جہاں اچھے کھانے کھانے سے پوری ہو سکتی ہے وہاں یہ کمی دوا کھانے سے بھی پوری کی جاسکتی ہے جس کے لئے آپ اپنے معالج سے رابطہ کریں تاکہ وہ آپ کے خون کو ٹیسٹ کرنے کے بعد آپ کے لئے مناسب دوائیں تجویز کرے۔



