سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

صرف سبزیاں کھانا ہڈیوں کی کثافت کیلئے مضر

سبزی خور خواتین میں کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ زیادہ: طبی تحقیق

ایک طبی تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ خواتین جو صرف سبزیاں کھانا پسند کرتی ہیں، ان میں عمر کے آخری دور میں کو لہے کی ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ ان خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے جو گوشت بھی کھاتی ہیں۔ 26 ہزار سے زیادہ ادھیڑ عمر خواتین کے ایک جائزے میں بتایا گیا ہے کہ جو خواتین گوشت اور مچھلی نہیں کھاتی ہیں ان میں کولہے کی ہڈی کے فریکچر کا 33 فیصد زیادہ امکان ہوتا ہے۔

اس ریسرچ کے ذریعے سبزی خوروں کو ایک بار پھر تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنی خوراک میں اہم غذاؤں کو لازما شامل کر کے اسے مقوی بنائیں۔ لیڈز یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے کبھی کبھار گوشت اور مچھلی کھانے والوں لیکن گوشت سے پر ہیز کرنے والوں اور صرف سبزی کھانے والوں کا تقابل باقاعدگی سے گوشت کھانے والوں کے ساتھ کیا تھا۔ 26 ہزار 3 سو 18 خواتین کی لگ بھگ 20 سال تک نگرانی کی گئی تھی۔

اس دوران ان میں سے 822 خواتین کے کولہے کی ہڈی میں فریکچر کے واقعات پیش آئے جس کا مطلب یہ ہوا کہ 3 فیصد خواتین اس حادثے سے دوچار ہوئیں۔ یہ تجزیہ بی ایم سی میڈیسین، جرنل میں شائع ہوا ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ سگریٹ نوشی اور عمر جیسے عوامل کو ملحوظ رکھنے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ صرف سبزی کھانے والی خواتین کا گروپ کو لہے کی ہڈی کے فریکچر کے خطرے سے زیادہ دوچار تھا۔

میڈیکل ٹیم نے یہ بھی دریافت کیا کہ سبزی خور خواتین کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) با قاعدگی سے گوشت کھانے والی خواتین کے مقابلے میں کچھ کم تھا۔ اس سے پہلے کی گئی ایک ریسرچ میں یہ معلوم ہو چکا ہے بی ایم آئی اگر کم ہو تو اس سے بھی کو لہے کی ہڈی کے فریکچر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس ریسرچ رپورٹ کے اہم مصنف جیمز ویبسٹر نے کہا ہے کہ سبزیوں پر مشتمل خوراک مختلف ہو سکتی ہے لیکن ان میں سے کچھ کو غیر صحت بخش قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہماری تحقیق لوگوں کو اس بات کی ترغیب نہیں دے رہی ہے کہ وہ سبزیوں والی خوراک ترک کر دیں۔ ہر قسم کی خوراک میں اس چیز کو اہمیت دی جانی چاہئے کہ کھانے والے کی ضروریات کیا ہیں اور انہیں ایک متوازن صحت مند طرز زندگی کیلئے کس قسم کی غذائوں کی ضرورت ہے۔ سبزیوں والی خوراک بھی ہر کوئی ایک جیسی نہیں کھاتا۔

کچھ لوگ ایک قسم کی سبزیاں زیادہ کھاتے ہیں اور دوسرے لوگ اس سے مختلف سبزیاں استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح یہ خوراک صحت بخش بھی ہو سکتی ہے اور غیر صحت بخش بھی۔ جیسا کہ جانوروں سے حاصل ہونے والی غذائوں میں بھی ہوتا ہے۔ یہ بات قابل تشویش ہے کہ سبزیوں والی خوراک میں ان غذائیت بخش اجزاء کی کمی ہوتی ہے جو ہڈیوں اور عضلات کو صحت مند رکھنے کیلئے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ یہ غذائیں عام طور پر سبزیوں کے مقابلے میں گوشت اور جانوروں سے حاصل شدہ دیگر غذائوں میں وافر ہوتی ہیں مثلاً پروٹین، کیلشیم اور دیگر بہت کم مقدار میں پائی جانے والی دوسری غذائیت ہیں۔

اگر ان غذاؤں سے جسم محروم رہے تو پھر ہڈیوں میں معدنی کثافت اور پٹھوں کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور کولھے کی ہڈی کے فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں سبزیوں پر مشتمل خوراک نے بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی ہے۔ 2021ء کے ایک سروے میں دیکھا گیا تھا کہ برطانیہ میں صرف سبزی خور افراد کی تعداد کل آبادی کا 7 فیصد تھی۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سبزیوں والی خوراک زیادہ صحت بخش ہوتی ہے کیونکہ سابقہ شواہد یہ بتاتے ہیں کہ گوشت کے بجائے سبزیوں پر مشتمل خوراک استعمال کرنے سے دیرینہ امراض مثلا ذیا بیطس، امراض قلب اور کینسر سے تحفظ مل جاتا ہے لیکن صرف سبزیاں کھانے سے یہ منفی اثر پڑتا ہے کہ ہڈیاں صحت مند نہیں رہتیں اور فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button