قومی خبریں

کھڑگے کے ‘مودی دہشت گرد’ بیان پر الیکشن کمیشن کا نوٹس، 24 گھنٹوں میں وضاحت طلب

کھڑگے کو مودی سے متعلق بیان پر 24 گھنٹوں میں جواب دینے کا حکم

نئی دہلی 23 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو “دہشت گرد” کہنے کے بیان پر سخت نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 24 گھنٹوں کے اندر وضاحت طلب کر لی ہے۔ حکام کے مطابق کمیشن نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور فوری جواب مانگا ہے۔

یہ نوٹس تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں ووٹنگ سے ایک دن پہلے جاری کیا گیا، جس سے سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔ کھڑگے نے منگل کے روز چنئی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بی جے پی اور اے آئی اے ڈی ایم کے اتحاد پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔

انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ پیریار اور سی این انا درائی کے نظریات پر قائم پارٹی کس طرح مودی کے ساتھ اتحاد کر سکتی ہے۔ اسی دوران انہوں نے مودی کو “دہشت گرد” قرار دیا، جس پر بی جے پی نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور کانگریس پر سخت حملے کیے۔

بعد ازاں صحافیوں کی جانب سے وضاحت طلب کیے جانے پر کھڑگے نے کہا کہ ان کا مطلب لفظی طور پر “دہشت گرد” کہنا نہیں تھا بلکہ وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ وزیر اعظم اپنی طاقت اور سرکاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو “دہشت زدہ” کر رہے ہیں۔

کھڑگے نے کہا کہ مودی جمہوری نظام کو کمزور کر رہے ہیں اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے اس بیان نے ملک کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے جبکہ الیکشن کمیشن کی کارروائی کے بعد معاملہ مزید حساس ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button