غیرمنظم لاک ڈاون اور حکومت کی پالیسیاں ذمہ دار ہیں: سی پی آئی

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)جمعہ کے روز راجیہ سبھا میں سی پی آئی نے معاشی بحران کو’ایکٹ آف گاڈ‘ قرار دینے پرحکومت کو نشانہ بنایا اور کہاہے کہ موجودہ صورتحال ’گاڈ‘ کی نہیں بلکہ مجموعی طور پر مرکز کی ناکامی ہے۔ سی پی آئی کے ممبر ونئے وشوم نے صدر کے خطاب پرشکریہ اداکرنے پر رائے شماری میں حصہ لیا اور کہاہے کہ 20 لاکھ کروڑ کا مالیاتی پیکیج صرف ’شو آف‘ تھاکیونکہ لوگوں تک صرف 2 لاکھ کروڑ روپے پہنچے۔
سی پی آئی ممبرنے صدر کے خطاب پر شکریہ کے ووٹ کی حمایت نہیں کی اور ایم این آر ای جی اے کے خطوط پر قومی روزگاراسکیم کا مطالبہ کیاہے۔ انہوں نے کہاہے کہ ملک کے نوجوانوں میں بے روزگاری کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے منریگا جیسی روزگار کی اسکیم ہونی چاہیے۔وشام نے کہاہے کہ وزیر خزانہ نے کوویڈ۔19 اور معیشت کے بحران کوبھگوان کا ایک عمل قرار دیا۔انھوں نے پوچھا ، یہ خدا کا کام کیسے ہوسکتا ہے؟انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ بغیرپلاننگ کے لاک ڈاؤن کایہ نتیجہ ہے۔
ان دنوں میں ملک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا ، لیکن کورونا وائرس کی وباسے پہلے ہی معیشت گرتی جارہی تھی۔سی پی آئی ممبرنے کہاہے کہ بھگوان پر ان کا الزام لگانے کی کوشش نہ کرو۔ میں بھگوان پر یقین نہیں رکھتا ، لیکن میں تمام مذاہب کے سچے پیروکاروں پر یقین رکھتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ خدا اتنا ظالم نہیں ہے۔ خدااتنا ظالم نہیں ہوسکتا۔ تو خدا کو مورد الزام نہ ٹھہراؤ۔ یہ حکومت کی پالیسیاں ہیں ، جرم خدا کانہیں۔



