بین ریاستی خبریںسرورق

سپریم کورٹ میں ای ڈی کا حلف نامہ: کجریوال کو عبوری ضمانت دینا غلط مثال ہوگی، انتخابی مہم بنیادی حق نہیں!

انتخابی مہم چلانا بنیادی حق نہیں ہے۔

نئی دہلی، 9مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف عام آدمی پارٹی سی ایم کو کسی طرح جیل سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے وہیں دوسری طرف ای ڈی نے اب عدالت کے سامنے حلف نامہ پیش کر کے ضمانت نہ دینے کے حق میں دلیل دی ہے۔ ای ڈی کا کہنا ہے کہ عبوری ضمانت ایک غلط روایت کا آغاز کرے گی اور انتخابی مہم چلانا بنیادی حق نہیں ہے کہ اس وجہ کے بغیر کسی کو ضمانت دی جائے۔ای ڈی نے جمعرات کو دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی عبوری ضمانت کی مخالفت کی۔

سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے حلف نامے میں تفتیشی ایجنسی نے کہا کہ انتخابی مہم چلانا بنیادی حق نہیں ہے۔دہلی شراب پالیسی معاملے میں اروند کجریوال کی عبوری ضمانت کی عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت سے ایک دن قبل ای ڈی کے ڈپٹی ڈائریکٹر بھانو پریا نے آج ایک حلف نامہ داخل کیا ہے۔حلف نامے میں کہا گیا ہے، انتخابات کے لیے مہم چلانے کا حق کوئی بنیادی، آئینی یا قانونی حق نہیں ہے۔ ای ڈی کی معلومات کے مطابق، کسی بھی سیاسی رہنما کو انتخابی مہم چلانے کے لیے عبوری ضمانت نہیں دی گئی ہے، چاہے وہ انتخابی امیدوار ہی کیوں نہ ہے۔

ای ڈی نے یہ بھی دلیل دی کہ اگر کسی سیاست دان کو انتخابی مہم کے لیے عبوری ضمانت دی جاتی ہے تو اسے گرفتار کرکے عدالتی حراست میں نہیں رکھا جاسکتا۔ ای ڈی نے کہاکہ گزشتہ تین سالوں میں تقریباً 123 انتخابات ہوئے ہیں اور اگر انتخابی مہم کے لیے عبوری ضمانت دی جاتی ہے، تو کسی بھی سیاست دان کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا اور اسے عدالتی حراست میں نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ انتخابات پورے سال ہوتے ہیں۔ ای ڈی نے یہ بھی کہا کہ اگر اروند کجریوال کو انتخابی مہم کے لیے ضمانت دی جاتی ہے تو یہ عدم مساوات کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button