
ای ڈی کی کارروائی: کولڈرف سیرپ سانحہ کے بعد چینائی میں 7 مقامات پر چھاپے، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کی جانچ
کولڈرف سیرپ کیس:ای ڈی کی بڑی کارروائی
چینائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کولڈرف سیرپ سانحہ میں 22 بچوں کی ہلاکت کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے پیر کے روز چینائی اور کانچی پورم کے سات مقامات پر بڑے پیمانے پر چھاپے مارے۔ یہ کارروائی منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) کے تحت سریسان فارما اور تمل ناڈو فوڈ اینڈ ڈرگ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے خلاف کی گئی۔
ذرائع کے مطابق، چھاپے سریسان فارما کے مالک جی رنگناتھن کے گھر، کمپنی کے مینوفیکچرنگ یونٹ اور چینئی کے کوڈمباکم دفتر پر مارے گئے۔ اسی کے ساتھ تمل ناڈو ڈرگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر دیپا اور جوائنٹ ڈائریکٹر کارتکئین کے گھروں پر بھی ای ڈی ٹیموں نے کارروائی کی۔ دونوں افسران کو مبینہ غفلت اور رشوت خوری کے الزامات میں معطل کیا جا چکا ہے۔
ای ڈی حکام کے مطابق، ابتدائی جانچ میں شبہ ہے کہ سریسان فارما اور ڈرگ کنٹرول افسران کے درمیان مالی لین دین یا غیر قانونی کمیشن کا تبادلہ ہوا ہے۔ ایجنسی اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں کمپنی کے پلانٹ پر لازمی معائنے کیوں نہیں کیے گئے۔
یاد رہے کہ کولڈرف سیرپ، جو سریسان فارما کی فیکٹری سے تیار ہوا، میں ڈائی ایتھائلین گلائکول کی خطرناک مقدار پائی گئی تھی، جو ایک صنعتی کیمیکل ہے اور عام طور پر اینٹی فریز میں استعمال ہوتا ہے۔ اس زہریلے مادے نے مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ ضلع میں 21 بچوں کی جان لی، جب کہ ایک بچہ بعد میں اسپتال میں دم توڑ گیا۔
مدھیہ پردیش پولیس نے کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی اور مالک جی رنگناتھن کو 9 اکتوبر 2025 کو گرفتار کیا۔ بعد ازاں اسے مزید تفتیش کے لیے تمل ناڈو حکام کے حوالے کیا گیا۔
تمل ناڈو حکومت نے دو ڈرگ کنٹرول افسران کو معطل کر دیا جنہوں نے گزشتہ دو برسوں سے پلانٹ کا معائنہ نہیں کیا تھا۔ اس کے علاوہ، محکمہ کے ڈائریکٹر اِن چارج کو اینٹی کرپشن بیورو نے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا، جس کے بعد ان کے خلاف بدعنوانی کے قوانین کے تحت نیا مقدمہ درج کیا گیا۔
ان دونوں مقدمات — ایک مدھیہ پردیش میں زہریلی دوا سے اموات اور دوسرا تمل ناڈو میں رشوت خوری — کو منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت "شیڈیول آفینسز” قرار دیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر ای ڈی نے اپنی جانچ شروع کی اور ایک ای سی آئی آر (Enforcement Case Information Report) درج کی۔
ای ڈی کے مطابق، کارروائی کا مقصد ان تمام مالی روابط اور غیر قانونی کمائی کا سراغ لگانا ہے جو کولڈرف سیرپ کے فروخت سے حاصل ہوئی اور ممکنہ طور پر سرکاری افسران میں تقسیم کی گئی۔
مرکزی ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (CDSCO) کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سریسان فارما 2011 سے کمزور بنیادی ڈھانچے کے باوجود مسلسل پیداوار جاری رکھے ہوئے تھی، حالانکہ متعدد مرتبہ انتباہ دیا گیا تھا۔ تفتیش سے پتا چلا کہ بیچ نمبر SR-13 (تاریخِ تیاری: مئی 2025، میعاد: اپریل 2027) میں زہریلا ڈائی ایتھائلین گلائکول پایا گیا۔
واقعے کے بعد مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے کولڈرف اور سریسان فارما کی تمام مصنوعات پر ریاست گیر پابندی عائد کر دی، جس کے بعد کمپنی کا مینوفیکچرنگ لائسنس بھی منسوخ کر دیا گیا۔
ای ڈی، اینٹی کرپشن بیورو، اور سی ڈی ایس سی او کی مشترکہ تحقیقات اب صرف زہریلے سیرپ تک محدود نہیں رہیں بلکہ یہ معاملہ تمل ناڈو کے ادویات کے نظام میں موجود کرپشن، لاپرواہی اور ادارہ جاتی ناکامیوں کی بڑی کہانی بن چکا ہے۔



