سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

عوامل و اقسام ,ذہنی تناؤ کے جسم پر اثرات

ہر طرح کا تناؤ نقصان دہ نہیں ہوتا

ہر طرح کا تناؤ نقصان دہ نہیں ہوتا

ہم سب کو ہی اپنی زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر ذپنی تناؤکا سامنا ہوتا ہے۔ درحقیقت روزمرہ کی زندگی میں ہماری چھوٹی چھوٹی چیزیں یا انتخاب بھی ہمارے مزاج پر اندازوں سے زیادہ اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ایک حالیہ تحقیق کے مطابق 50 فیصد امریکی شہریوں کو معتدل تناؤکا سامنا ہے مگر یہ جان لیں کہ ہر طرح کا تناؤنقصان دہ نہیں ہوتا اور اس سے آپ کو اپنے اردگرد کے ماحول کی آگاہی اور زیادہ توجہ مرکوز کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ یعنی کچھ معاملات میں تناؤآپ کو مضبوطی فراہم کرکے زیادہ کام کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ہر سال 10 اکتوبر کو ذہنی صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے یہ جان لینا چاہیے کہ ذہنی تناؤجسم کے ساتھ ساتھ دماغ پر کس طرح اور کس حد تک مثبت یا منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

تناؤ کا سبب

ہر ایک کے لیے تناؤ مختلف ہوسکتا ہے، ہوسکتا ہے کہ جو چیز آپ کو تناؤکا شکار کرے وہ آپ کے دوست کے لیے کچھ بھی نہ ہو۔

مگر ہم سب کے جسم ایک ہی طرح تناؤپر ردعمل ظاہر کرتے ہیں، کیونکہ تناؤپر ردعمل آپ کے جسم کا سخت یا مشکل صورتحال سے نمٹنے کا طریقہ ہوتا ہے۔اس سے ہارمونز، نظام تنفس، خون کی شریانوں اور اعصابی نظام میں تبدیلیاں آسکتی ہیں۔

مثال کے طور پر تناؤکے نتیجہ میں دل کی دھڑکن تیز ہوسکتی ہے، سانس پھول سکتا ہے، پسینہ بہنے لگتا ہے، مگر اس کے ساتھ یہ جسمانی توانائی کی ایک لہر بھی فراہم کرتا ہے۔اسے جسم کا فائٹ یا فلائٹ ردعمل کہا جاتا ہے اور اس کیمیائی ردعمل کے ذریعے جسم جسمانی ردعمل کے لیے تیار ہوتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ وہ حملے کی زد میں ہے۔

اچھا تناؤ

کئی بار آپ خود کو کچھ وقت کے لیے تناؤکا شکار محسوس کرتے ہیں، عام طور پر اس پر فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر جب آپ کو ایک پراجیکٹ پر کام کرنا ہوتا ہے یا لوگوں کے سامنے خطاب کرنا ہوتا ہے، ہوسکتا ہے کہ اس وقت آپ کو پیٹ میں گڑگڑاہٹ سی محسوس ہو اور ہتھیلیوں پر پسینہ بہنے لگے۔یہ مثبت تناؤسمجھا جاتا ہے جس کی مدت بہت کم وقت کی ہوتی ہے اور یہ جسم کا مشکل حالات سے گزرنے میں مدد دینے کا ذریعہ ہے۔

برا تناؤ

مگر اکثر اوقات منفی جذبات بہت زیادہ تناؤ کا ثابت ہوتے ہیں، جیسے آپ فکرمند، غصہ، خوفزدہ یا چڑچڑاہٹ کے شکار ہوں تو اس طرح کا تناؤآپ کے لیے اچھا نہیں ہوتا اور طویل المیعاد بنیادوں پر سنگین مسائل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ تناؤکا اثر ہر ایک پر مختلف ہوسکتا ہے، مگر ذہنی تناؤکی متعدد وجوہات منفی اثرات مرتب کرتی ہیں جیسے کسی کی جانب سے بدزبانی یا توہین، بہت زیادہ محنت، ملازمت سے محرومی، شادی شدہ زندگی کے مسائل، شریک حیات سے علیحدگی، خاندان میں موت، تعلیمی اداروں میں مشکلات، خاندانی مسائل، مصروفیات اور حال ہی میں کہیں اور منتقل ہونا وغیرہ۔

طویل المیعاد تناؤ

اگر آپ کے ذہنی تناؤکو طویل عرصے تک خود پر طاری رہنے دیں تو اس سے جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، خصوصاً جب یہ دائمی بن جائے۔ دائمی تناؤکی انتباہی علامات سے آگاہی ضروری ہے تاکہ اس سے بچ سکیں۔

جسمانی علامات درج ذیل ہیں:

جسمانی توانائی میں کمی , سردرد, سینے میں تکلیف اور دل کی دھڑکن تیز ہوجانا, سونے میں مشکلات، یا بہت زیادہ نیند, مسلز میں تکلیف یا دباؤ , کپکپاہٹ، کانوں میں گھنٹیاں بجنا، ہاتھوں اور پیروں میں سردی کا احساس یا پسینہ, منہ خشک ہونا اور نگلنے میں مشکل محسوس ہونا, ہاضمے کے مسائل, ہائی بلڈ پریشر, ازدواجی تعلقات میں تبدیلیاں۔

ذہنی علامات یہ ہوتی ہیں:

یہ احساس کہ آپ کوئی کام ٹھیک سے نہیں کرسکتے,پل پل مزاج بدلنا, ذہنی بے چینی, بے سکون, زندگی بے مقصد محسوس ہونا, چڑچڑاہٹ, اداسی یا ڈپریشن, تناؤ کا بہت زیادہ احساس۔ کئی بار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو بہت زیادہ تناؤ کا سامنا ہے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ اس کو مزید قابو میں نہیں کرسکتے تو آپ کو کسی ماہر سے مدد کے لیے رجوع کرنے پر غور کرنا چاہیے۔

اگر کسی ڈاکٹر کے پاس زیادہ جاتے ہیں تو اس سے ہی بات کرکے دیکھ لیں تاکہ وہ یہ تعین کرنے میں مدد کرسکے جس کا سامنا آپ کو ہورہا ہے وہ ذہنی تناؤہے یا یہ کوئی ذہنی بے چینی کا عارضہ ہے۔وہ ڈاکٹر کسی ذہنی صحت کے ماہر کی جانب بھی بھیج سکتا ہے یا کوئی نام تجویز کرسکتا ہے۔

بہت زیادہ تناؤکی علامات درج ذیل ہیں:  ذہنی بے چینی یا خوف کے حملے, ہر وقت فکر مند رہنا, مسلسل دباؤ کا احساس, تناؤ سے نمٹنے کے لیے منشیات کا استعمال, بہت زیادہ کھانا, تمباکو نوشی,ڈپریشن, گھر والوں اور دوستوں سے قطع تعلق۔ اگر آپ کا تناؤ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ خود کو یا کسی اور کو نقصان پہنچانے کا سوچنے لگے تو فوری طور پر طبی امداد کے لیے رجوع کریں۔

ذہنی تناؤ کا اثر

ذہنی تناؤکا مسلسل شکار رہنا سردر، ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض، ذیابیطس، جلد کے امراض، دمہ، جوڑوں کے درد، ڈپریشن اور ذہنی بے چینی وغیرہ کا شکار بناسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button