مصری خاتون رُکن پارلیمنٹ امتحان میں نقل کرتے رنگے ہاتھوں گرفتار
خاتون رکن پارلیمنٹ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لاء میں امتحان دیتے ہوئے دھوکہ دہی کرتی ہوئی پکڑی گئی
قاہرہ،10جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)جنوبی مصر کی ساؤتھ ویلی یونیورسٹی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب ایک خاتون رکن پارلیمنٹ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لاء میں امتحان دیتے ہوئے دھوکہ دہی کرتی ہوئی پکڑی گئی۔اس واقعے نے مصر میں دیگر ارکان پارلیمان کا سربھی شرم سے جھکا دیا۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ساؤتھ ویلی یونیورسٹی’انتساب‘ میں فیکلٹی آف لاء کے تیسرے سال کی ایک طالبہ اور امتحانات کی پرویکٹرنگ کی ذمہ دار یونیورسٹی کے پروفیسرکے درمیان زبانی تکرار ہوئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب رکن پارلیمنٹ نے پراکٹر پرحملہ کیا اور مارا پیٹا۔ یہ ہنگامہ آرائی اس وقت ہوئی جب نگران خاتون ٹیچرنیرکن پارلیمنٹ کو ہیڈ فون کے ذریعے پرچے میں نقل کرتے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔
دوسری طرف ساؤتھ ویلی یونیورسٹی نے اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ فیکلٹی ممبران میں سے ایک اسسٹنٹ جو کہ ایک اسسٹنٹ پروفیسر ہے۔ فیکلٹی آف لاء میں تھرڈ ایئر کے طلباء کے امتحان کے دوران طلبا انتظامی عدلیہ کے مضمون کا امتحان دے رہے۔ اس دوران اس نے ایک طالبہ کی آواز سنی جب وہ امتحان دے رہی تھی۔اس نے وضاحت کی کہ جب نگرا خاتون نے طالبہ سے آنے والی آواز کی تصدیق کرنے کے لیے اس سے رابطہ کیا تو اس نے دریافت کیا کہ اس نے ایک ڈیوائس سے منسلک وائرلیس ایئر فون لگا رکھا ہے۔ اسے دھوکہ دے رہی ہے، اور اسے فوراً اس ایئر فون کو نکالنے کو کہا۔یونیورسٹی نے کہا کہ طالبہ نے ہیڈسیٹ مانیٹر کے حوالے کرنے سے انکار کیا اور معلمہ کو اس نے اسے مارا پیٹا اور جب سپروائزر نے اپنے ساتھی کو بچانے کی کوشش کی تو اس نے اس پر بھی حملہ کردیا۔
بعد میں یہ واضح ہوا کہ طالبہ مصری پارلیمنٹ کی رکن تھی۔ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد فوری طور پر اس کے خلاف فراڈ کی رپورٹ درج کرائی گئی ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔یونیورسٹی نے خاتون رُکن پارلیمنٹ کیخلاف ضروری اقدامات کرنے اور معاملہ مجاز حکام کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔پتہ چلا کہ رکن پارلیمنٹ مصر کے ایوان نمائندگان کی رکن اور بالائی مصر کے گورنریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کا تعلق ایک بڑی پارٹی سے ہے، فی الحال انتساب کے تیسرے سال میں زیر تعلیم ہے۔



