تلنگانہ کی خبریں

کورٹلہ میں عید گاہ مسجد ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے آؤ مسجد دیکھیں و عید ملاپ پروگرام۔

عیدملاپ پروگرام سے قومی یکجہتی سےکو فروغ

تلگو مقرر غوث الرحمن کا خطاب

تلنگانہ /کورٹلہ 30/اپریل (محمد جہانگیر احمد) عیدملاپ پروگرامس سے قومی یکجہتی کو فروغ ملتا ہے یہ وہ پروگرام ہےجہاں مختلف طبقات کے لوگ آپس میں ملتے ہیں اور ایکدوسرے کی خوشیوں کو بانٹتے ہوے خوشی مناتے ہیں ان خیالات کا اظہار جناب محمد غوث الرحمن پرنسپل و مشہور تلگو مقرر نے شہر کورٹلہ کی عیدگاہ مسجد ویلفیئر سوسائٹی کورٹلہ کی جانب سےآج مسجد کے احاطہ میں غیر مسلم بھائیوں کیلئے منعقد” آؤ مسجد دیکھیں و عید ملاپ پروگرام” سے خطاب کرتے ہوئے کہا انہوں نےکہاکہ مذہب اسلام میں روزہ اہم فریضہ ہے اور رمضان المبارک میں مسلمان روزہ رکھتے ہوئے قرب الٰہی حاصل کرتے ہیں جبکہ روزہ رکھنے سے روزہ دار کو بھوکھے انسان کی کیفیت معلوم ہوتی ہے اور روزہ دار کے اندر اسکے تئیں ہمدردی،مدد، حسن سلوک کی کیفیت پیدا ہوتی ہے روزہ رکھنے سے تقوی کی کیفیت کو تقویت ملتی ہے اور دوران روزہ روزہ دار باوجود تنہائی میں رہنے کہ کھانا پینا تو دور تھوک تک بھی نگلنے سے گریز کرتے ہوئے اللہ کی رضا کو حاصل کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے انہوں نے کہاکہ روزہ صرف روحانی عبادت ہی نہیں بلکہ جسمانی ریاضت بھی ہے سائنسدانوں کے مطابق روزہ رکھنے والے افراد کو کینسر جیسے مہلک مرض سے بچنے میں کافی مدد ملتی ہے اور سال کے گیارہ مہینہ غذا کے استعمال کے بعد ایک ماہ روزہ رکھنے سے بی۔پی، شوگر، گردوں کے امراض، کولیسٹرول کی سطح میں کمی، ہاضمی نظام میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔

آج کے اس پر آشوب دور میں ہر انسان آرام میسر رہنے کے باوجود سکون،چین، شانتی کے تلاش میں ہے پر سکون و چین ایکدوسرے کی خیر خواہی اور بھلائی اور مددکرنے اور آپسی احترام میں پوشیدہ ہے۔اسئلیے ہمیں چاہیے کہ ایکدوسرے کا احترام کریں۔اسطرح ہمارے ملک ہندوستان کو کثرت میں وحدت کیلئے مثالی مانا جاتا ہے جس طرح ایک چمن میں طرح طرح کے پھول ہوتے ہیں اگر اس چمن میں صرف ایک قسم کے پھول ہونگے تو وہ چمن نہیں کہلائے گا اس طرح ہمارے ملک ہندوستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں اور ایکدوسرے کے تہواروں میں اور خوشیوں کے موقعوں پر آپس میں مل جل کر خوشیاں مناتے ہیں جس سے ایک صحتمند سماج قائم ہوتاہے اور ایک صحتمند سماج کے ساتھ ملک کی ترقی ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ مذہب اسلام بھی اپنے پڑوسیوں جس میں گھر کے اطراف و اکناف میں چالیس مکانوں تک پڑوسی ہونے کا درجہ دیا گیا ہے انکے ساتھ بھلائی کرنے انکی خیر خواہی کا حکم دیا گیا ہے اگرچہ چاہے پڑوسی کسی بھی ذات، مذہب، طبقہ کے ہوں انکے ساتھ حسن سلوک کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ رمضان المبارک میں مسلمان نہ صرف روزہ رہتے اور عبادت کرتے ہیں بلکہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور مالدار صاحب نصاب افراد اپنے مال سے 2.5 فیصد رقم زکواۃ کے طور پر اداکرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انسان اپنے رب کو مختلف ناموں سے پکارتا ہے مگر سب مالک و خالق ایک رب اللہ ہےاور اس اللہ کی واحدانیت اور اس کے احکامات کو بتانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب سے انبیاء کرام کو اس زمین پر بھیجا جس میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ آخری نبی ہیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمام دنیا کے انسانوں کیلئے رہنما بناکر بھیجا ہے اور ہدایت کیلئے قرآن مجید کا نزول فرماتے ہوئے اچھے برے کی تمیز کیساتھ زندگی بھر میں کام آنے والے احکامات اور طور طریقے کو قرآن مجید میں کھول کھول کر بتایا ہے انہوں نے اس موقع پر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے فروغ اور ملک کی عوام میں بھائی چارگی کو پروان چڑھانے کے غرض سے اور مساجد سے متعلق غیر مسلم بھائیوں میں پائی جانے والی غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے عیدگاہ مسجد ویلفیئر سوسائٹی کورٹلہ کی جانب سے جو پروگرام کا انعقاد عمل میں لایا قابل ستائش و مبارکباد ہے۔

اجلاس کو یم۔ایل۔سی و سینئر کانگریس قائد جگتیال ٹی۔ جیون ریڈی،جواڑی کرشنا راؤ ریاستی قائد کانگریس و حلقہ اسمبلی کورٹلہ، انم۔انیل صدر ٹاؤن بی۔آر۔یس پارٹی، پیٹا بھاسکر دلت رتن ایوارڈ یافتہ، کمیونسٹ قائد ایڈوکیٹ چننے وشواناتھم، ڈاکٹر وائی۔انوپ راؤ، ڈاکٹر راجیش ریگونڈہ صدر انڈین میڈیکل ایسوسی یشن کورٹلہ، ماڈاوینی نریش بی۔جئے۔پی فلور لیڈر بلدیہ، نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح مذہب اسلام کی تعلیمات ہیں کہ دوسرے مذاہب کا اور انکے ماننے والوں کا احترام کیا جائے اسی طرح ہندو دھرم میں بھی احترام کا درس دیا جاتا ہے اور عید ملاپ جیسے پروگرامس کے انعقاد سے ملک میں گنگا جمنی تہذیب کو فروغ ملتا ہے اور مختلف طبقات کی عوام میں دوستی اور بھائی چارگی پروان چڑھتی ہے ایسے پروگرامس کے انعقاد کی ملک کے ہر حصے میں شدید ضرورت ہے تاکہ آپسی اختلافات کو ختم کیا جاسکے۔

ہمیں فخر ہے کہ ہم نے ہندوستان میں جنم لیا ہے جہاں ایک ہندو اور ایک مسلمان، سکھ، عیسائی آپس میں بھائی بھائی کی طرح ذندگی گذار رہیں ہیں۔اس موقع پر حاضرین نے کورٹلہ شہر کو امن و بھائی چارگی، گنگا جمنی تہذیب کی مثال قرار دیتے ہوئے ملک میں امن و امان قائم رکھنے اور ملک کو پوری دنیا میں ترقی یافتہ ملک بنانے کا عزم کیا گیا۔پروگرام کا آغاز مولانا عبدالکریم السعدی امام و خطیب ڈاگ بنگلہ عیدگاہ مسجد کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا اور انہوں نے حاضرین سے اظہار تشکر کیا۔محمد فصیح الدین شکیل ہندی پنڈت نے اجلاس کی کاروائی چلائی،

عید گاہ مسجد ویلفیئر سوسائٹی کورٹلہ و الخیر یوتھ کورٹلہ کے نوجوانوں نے پروگرام کے انعقاد، اجلاس و طعام کے دوران خدمات کے فرائض انجام دئیے اور غیر مسلم بھائیوں کو مسجد کا معائنہ کروایا اور نماز کے طریقے کار اور آیات کامفہوم سمجھایا اور رخصتی پر تلگو زبان پر منحصر قرآن مجید اور اسلامک لٹریچر کی مفت تقسیم عمل میں لائی۔ اس موقع پر شہر کورٹلہ کی مشہور شخصیات انم۔انیل،جندم لکشمن وارڑ کونسلر ڈاگ بنگلہ، ڈاکٹر انوپ راؤ، ڈاکٹر راجیش ریگونڈہ، واسم بھومانندم، ردرا سرینواس صدر ریاستی پدماشالی سنگھم، پیٹا بھاسکر، ماڈاوینی نریش، راجیش بہوجن سماج پارٹی کنوینر، جلہ دھننجئے، پیرلہ ستیم وارڈ کونسلر اللہ میاں گٹہ، کے علاوہ مسلمان سیاسی قائدین مظفر احمد سجو، عبدالرحیم، محمد رفیع، کے علاوہ مہمان قائدین محمد سراج الدین منصور کانگریس قائد و سابقہ نائب صدرنشین بلدیہ جگتیال، اور دیگر موجود تھے

متعلقہ خبریں

Back to top button