قومی خبریں

انتخابی کمیشن نے آسام میں اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی حد بندی کا کیا آغاز

قانون و انصاف کی وزارت، حکومت ہند سے موصول ہونے والی درخواست کی تعمیل کرتے ہوئے ہندوستان کے انتخابی کمیشن نے ریاست آسام میں عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 8 اے کے مطابق اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی حد بندی کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا

نئی دہلی ،27دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) قانون و انصاف کی وزارت، حکومت ہند سے موصول ہونے والی درخواست کی تعمیل کرتے ہوئے ہندوستان کے انتخابی کمیشن نے ریاست آسام میں عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 8 اے کے مطابق اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی حد بندی کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔چیف انتخابی کمشنر جناب راجیو کمار اور انتخابی کمشنروں انوپ چندر پانڈے اور ارون گوئل کی قیادت میں کمیشن نے آسام کے چیف انتخابی افسر کو ہدایت دی ہے کہ وہ یہ معاملہ ریاستی حکومت کے ساتھ اٹھائیں تاکہ ریاست میں حد بندی کا عمل مکمل ہونے تک یکم جنوری 2023 سے نئی انتظامی اکائیوں کی تشکیل پر مکمل پابندی عائد کی جاسکے۔ جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 170 کے تحت اختیاردیاگیا ہے، مردم شماری کے اعداد و شمار (2001) کو ریاست میں پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں کی ازسرنوترتیب کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے سیٹوں کا ریزرویشن آئین ہند کی دفعات 330 اور 332 کے مطابق فراہم کیا جائے گا۔کمیشن انتخابی حلقوں کی حد بندی کے مقصد کے لیے اپنے رہنما خطوط اور طریقہ کار کووضع کرے گا اوراسے حتمی شکل دے گا۔ حد بندی کے عمل کے دوران، کمیشن فزیکل خصوصیات، انتظامی اکائیوں کی موجودہ حدود، مواصلات کی سہولت، عوامی سہولت اور جہاں تک ممکن ہو، حلقوں کو جغرافیائی طور پر کمپیکٹ ایریا کے طور پر رکھا جائے گا۔کمیشن کے ذریعہ ریاست آسام میں حلقوں کی حدبندی کی تجویز کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے بعد، اسے مرکزی اور ریاستی گزٹس میں عام لوگوں سے تجاویز/اعتراضات طلب کرنے کے لیے شائع کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button