مودی کیخلاف نازیبا الفاظ اور الزامات پر راہل کو الیکشن کمیشن کا نوٹس
راجستھان میں ایک انتخابی ریلی میں پی ایم مودی کے خلاف نازیبا الفاظ اور بے بنیاد الزامات کی شکایت
نئی دہلی،24نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) الیکشن کمیشن نے کانگریس لیڈر اور لوک سبھا کے رکن راہل گاندھی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے راجستھان میں ایک انتخابی ریلی میں پی ایم مودی کے خلاف نازیبا الفاظ اور بے بنیاد الزامات کی شکایت پر ان سے جواب طلب کیا ہے۔ پی ایم مودی کی تنقید میں ’جیب کترا‘ اور ہندوستانی کرکٹ کے لیے’پنوتی‘جیسے الفاظ کا استعمال اور منتخب کاروباریوں کو لاکھوں کروڑوں روپے دینے کے مسٹر گاندھی کے الزامات کے خلاف دائر کی گئی۔ بی جے پی کی جانب سے شکایت پر ہفتہ کی شام 6 بجے تک جواب دینے کا وقت دیا گیا ہے۔ یہ نوٹس نئی دہلی میں کانگریس لیڈر کے گھر کے پتے پر جاری کیا گیا ہے۔بی جے پی نے بدھ 22 نومبر کو راجستھان کے باڑمیر ضلع کے ایک جلسہ عام میں راہل گاندھی کی تقریر میں مسٹر مودی کی مبینہ تقریر پر تنقید کی جس میں’پاکٹ مار‘ اور’پنوتی‘ جیسے الفاظ استعمال کیے گئے اور ہندوستان کے 10-15 ارب پتیوں نے نو سالوں میں 14 لاکھ کروڑ روپے کا قرض معاف کرنے کے الزامات کی بنیاد پر یہ شکایت کی گئی ہے۔
بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ کسی قومی پارٹی کے لیڈر کے لیے وزیر اعظم کے خلاف جیب کترے اور پنوتی جیسے الفاظ استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔ پارٹی نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ پچھلے نو سالوں میں صنعت کاروں کے 14 لاکھ کروڑ روپے کے قرضے معاف کرنے کا بیان بھی حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔پارٹی نے اسے عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 123 (4) اور انڈین کوڈ آف کریمنل پروسیجر کی دفعہ 171G، 504، 505 اور 499 اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کے خلاف قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ماڈل ضابطہ اخلاق کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن نے نوٹس میں کہا ہے کہ پارٹیوں اور ان کے قائدین کیخلاف غیر مصدقہ بنیادوں پر الزامات لگانے سے گریز کیا جانا چاہئے۔ لفظ ’’پنوتی‘‘ سے متعلق شکایت پر مسٹر گاندھی کو بھیجے گئے نوٹس میں کمیشن نے عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 123 کا ذکر کیا ہے جو انتخابات میں بدعنوان طریقوں کی وضاحت کرتا ہے۔



