میوربھنج، 26 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)آئندہ این ڈی اے کی صدارتی اُمیدوار دروپدی مرمو اوڈیشہ کے میور بھنج ضلع کے اوپربیڈا گاؤں میں پیدا ہوئیں۔ 3500 کی آبادی والے اس گاؤں میں دو بستیاں ہیں۔بڑا شاہی اور ڈنگری شاہی۔ بڑاشاہی میں بجلی ہے لیکن ڈنگر شاہی ابھی تک تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ یہاں کے لوگ مٹی کے تیل سے رات کی تاریکی کو دور کرتے ہیں اور موبائل چارج کرنے کے لیے ایک کلومیٹر دور جاتے ہیں۔جب دروپدی مرمو صدارتی امیدوار بنیں تو ڈنگری شاہی سرخیوں میں آئیں، صحافی جب اس گاؤں پہنچے تو انہیں یہاں بجلی نہیں ملی۔
اس کے بعد یہ گاؤں سرخیوں میں آگیا۔ اس کے بعد اوڈیشہ حکومت نے اس گاؤں کو بجلی فراہم کرنے کی پہل شروع کی۔ریاستی حکومت نے قبائلی اکثریتی گاؤں میں بجلی کے کھمبے اور ٹرانسفرمر لگانے کا کام جنگی پیمانے پر شروع کر دیا ہے۔صدارتی امیدوار دروپدی مرمو کے بھائی، اور گاؤں کے 20 دیگر خاندان مٹی کے تیل کی روشنی سے رات کی تاریکی کو دور کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی مقامی لوگوں کو موبائل چارج کرنے کے لیے 1 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں جانا پڑتا ہے۔مرمو کے بھائی برانچی نارائن ٹوڈو ایک کسان ہیں اور اپنے دو بچوں اور بیوی کے ساتھ اس گاؤں میں رہتے ہیں۔
مرمو کا آبائی گاؤں ڈنگوری شاہی میور بھنج ضلع میں رائرنگ پور سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ گاؤں کے لوگوں کو بہت فخر ہے، کیونکہ ان کے گاؤں کی بیٹی کو ملک کے سب سے باوقار عہدے کا امیدوار بنایا گیا ہے۔تاہم فخر محسوس کرنے کے باوجود گاؤں والوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے گاؤں میں ابھی تک بجلی نہیں آئی ہے۔ تاہم اب دیہاتیوں کو امید ہے کہ جلد ہی دیگر بستیوں کی طرح ان کے گاؤں میں بھی بجلی کا کنکشن ہوگا اور گلیاں روشنیوں سے جگمگا اٹھیں گی۔



