قومی خبریں

اسپائس جیٹ کی ایک اور پرواز کی ایمرجنسی لینڈنگ، چین جا رہے طیارے کی کولکاتا واپسی

 نئی دہلی ، 6جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسپائس جیٹ کے ایک اور طیارے نے بدھ کے روز ہنگامی لینڈنگ کی۔ معلومات کے مطابق، 5 جولائی 2022 کو اسپائس جیٹ بوئنگ 737 مال بردار (کارگو ہوائی جہاز) کولکاتا سے چونگ کنگ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ ویدر ریڈار ٹیک آف کے بعد موسم نہیں دکھا رہا تھا۔ جس کے بعد پی آئی سی نے کولکاتا واپس جانے کا فیصلہ کیا۔اسپائس جیٹ کے ترجمان نے بدھ کے روز پی ٹی آئی کو بتایا کہ 5 جولائی 2022 کو اسپائس جیٹ کا بوئنگ 737 مال بردار جہاز کولکاتا سے چونگ کنگ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ ٹیک آف کے بعد موسمی ریڈار موسم نہیں دکھا رہا تھا۔ پائلٹ ان کمانڈ نے کولکاتا واپس جانے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد طیارے کو کولکاتا ائیرپورٹ میں بحفاظت اتارا گیا۔خیال رہے کہ گزشتہ 18 دنوں میں اسپائس جیٹ کے طیارے میں تکنیکی خرابی کا کم از کم یہ آٹھواں واقعہ ہے۔ اس سے قبل منگل کے روز اسپائس جیٹ کے ایک طیارے نے پاکستانی شہر کراچی میں ہنگامی لینڈنگ کی تھی۔ یہ طیارہ دہلی سے دبئی جا رہا تھا۔

مشکل میں اسپائس جیٹ 18 دنوں میں خرابی کے 8 واقعات پر ڈی جی سی اے نے جواب طلب کرلیا

اسپائس جیٹ کے طیاروں میں خرابی کی خبریں لگاتار آ رہی ہیں۔ اس تعلق سے ڈی جی سی اے نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بدھ کے روز کمپنی کو وجہ بتا ؤنوٹس جاری کر دیا ہے۔ گزشتہ 18 دنوں میں اسپائس جیٹ میں تکنیکی خرابی کے 8 واقعات کے پیش نظر ڈی جی سی اے کے ذریعہ یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ ڈی جی سی اے کے ذریعہ ستمبر 2021 میں اسپائس جیٹ کے آڈٹ میں اخذ کیا گیا تھا کہ کل پرزوں کے فراہم کنندگان کو مستقل بنیاد پر ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے کل پرزوں کی کمی ہو رہی ہے۔بہرحال، ڈی جی سی اے نے بتایا کہ اسپائس جیٹ ایئرلائن طیارہ ایکٹ 1937 کے تحت محفوظ، باصلاحیت اور قابل اعتماد ہوائی سروسز کو یقینی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

دراصل منگل کو دہلی-دبئی پرواز کو فیوئل انڈیکیٹر میں خرابی ہونے کے بعد طیارہ کو پاکستان کے کراچی میں ایمرجنسی لینڈنگ کرانی پڑی تھی۔ اسی دن کانڈلا-ممبئی پرواز کو ہوا کے درمیان وِنڈشیلڈ میں دراڑ آنے کے بعد مہاراشٹر کی راجدھانی میں اتارا گیا۔ منگل کے روز پیش آئے ان دو واقعات کے سامنے آنے کے بعد مجموعی طور پر گزشتہ 18 دنوں میں اسپائس جیٹ کے طیاروں میں تکنیکی خرابی کے 8 واقعات سامنے آ گئے ہیں۔ ڈی جی سی اے کے مطابق ان سبھی واقعات کی جانچ چل رہی ہے۔

واضح رہے کہ اسپائس جیٹ ایئرلائن گزشتہ تین سالوں سے خسارے میں چل رہی ہے۔ سستی سروس دینے والی طیارہ کمپنی اسپائس جیٹ کو 19-2018 میں 316 کروڑ، 20-2019 میں 934 کروڑ اور 21-2020 میں 998 کروڑ روپے کا خسارہ ہوا تھا۔ کورونا وبا سے طیارہ سیکٹر بری طرح بدحالی کا شکار ہوا ہے اور پرواز مشاورتی فرم سی اے پی اے نے 29 جون کو کہا کہ ہندوستانی طیارہ کمپنیوں کا خسارہ سال 22-2021 کے تین ارب ڈالر سے گھٹ کر سال 23-2022 میں 1.4 سے 1.7 ارب ڈالر کے درمیان رہ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button