بین الاقوامی خبریںسرورق

غزہ کا الشفاء اسپتال فلسطینی شہداء کی سب سے بڑی اجتماعی قبر کا گہوارہ بن گیا

الشفاء اسپتال کے اندر زندہ فلسطینی اجتماعی قبر کو کھودنے میں ہی مصروف تھے۔

غزہ، 15نومبر (اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ کا سب سے بڑا ’الشفاء اسپتال‘ اب کسی چار دیواری کے اندر اور فوجی محاصرے میں ایک یا ایک سے زائد اجتماعی قبروں کا گہوارہ بن جائے گا۔ منگل کے روز اسرائیلی فوج کے محاصرے میں اور اسرائیلی نشانچی کی گولیوں کی زد میں الشفاء اسپتال کے اندر زندہ فلسطینی اجتماعی قبر کو کھودنے میں ہی مصروف تھے۔اسپتال کے اندر داخل زخمیوں کی صورت ہلاک ہو جانے والوں کے علاوہ ان ہلاک ہو چکے فلسطینیوں کی بھی ایک بڑی تعداد اب بے گور وکفن نعشوں کی صورت میں موجود ہے۔ ان میں بچے بھی ہیں، عورتیں بھی فلسطینی بوڑھے اور جوان بھی۔کئی ایسے بھی اب زندوں میں شامل نہیں جو زندہ رہ سکنے کی امید لے کر اسپتال کو پناہ گاہ سمجھ کر یہاں پہنچے تھے۔ مگر یہیں وہ جاں بحق ہو گئیـ۔پچھلے کئی دنوں سے اسپتال میں موجود ان کی نعشیں اور اس میں ہر روز ہونے والے اضافے کے باوجود انہیں اسپتال سے باہر لے جا کر تدفین کی صورت پیدا کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔

اب زندہ رہ گئے مگر موت کے سائے میں پڑے ان کے فلسطینی بھائی منگل کے روز انہی کے لیے اجتماعی قبرتیار کر رہے تھے۔جب اسپتال کے چاروں طرف اسرائیلی فوج کا گھیرا ہو، ٹینکوں کی گھن گرج ہو، ڈرون حملے کے لیے پرواز کر رہے ہوں اور ماہر نشانچی اپنی انگلیاں ٹرائیگرز پر رکھے کھڑے ہوں، یہی نہیں گاہے گاہے ٹینک کا گولہ برس جاتا ہو اور کبھی ماہر نشانچی کی گولیوں کی بارش ہو جاتی ہو، ان فلسطینیوں کی نعشوں کو مزید بے توقیری اور بے حرمتی سے بچانے کے لیے اجتماعی قبر ہی آپشن ہو سکتی تھی۔ لیکن اندازہ نہیں کہ ایک اجتماعی قبر کافی ہو گی یا ابھی کئی اجتماعی قبروں کی تیاری ضروری ہو گی۔

اسرائیلی فوج نے الشفاء اسپتال کو یہ کہہ کر پورا غزہ تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ گھیرے میں لے رکھا ہے کہ اسے ابھی بھی خوف ہے کہ حماس کے جنگجو اسپتال سے نکل کر حملہ کر دیں گے۔ اس لیے وہ اسپتال کو حماس کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر بیان کر رہا ہے۔ حماس اس الزام کی تردید کرتی ہے۔خود الشفاء اسپتال کی انتظامیہ کا بھی موقف اسرائیلی فوج کے بالکل برعکس ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اس وقت بھی اسپتالل میں 650 مریض اور زخمی ہیں۔ جبکہ پانچ سے سات ہزار وہ بے گھر فلسطینی ہیں جن کے گھر اسرائیلی بمباری نے ملبے کا ڈھیر بنا دیے تو اپنے بچے کھچے افراد خانہ کے ساتھ اسپتال کے احاطے میں پناہ لینے آگئے کہ مہذب دنیا میں کوئی فاشسٹ نہیں ہوتا اس لیے اسپتال پر حملہ تھوڑا ہی کرے گا۔

مگر حالیہ دنوں میں اسپتال کی ناکہ بندی اور محاصرے کے بعد 40 زخمی دم توڑ گئے جبکہ تین نومولود بچے ‘انکیوبیٹرز’ کی بجلی بند ہوجانے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کے خدا کے پاس چلے گئے۔اشرف القادرا غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان ہیں۔ ان سے فون پر رابطہ ہوا تو وہ کہہ رہے تھے اسپتال میں ایک سو کے قریب نعشیں پڑی ہیں۔ انہیں تدفین کے لیے کسی قبرستان لے جانا ممکن نہیں رہا۔ اس لیے آج ان کی الشفاء اسپتال کے اندر ہی اجتماعی قبر میں تدفین کا سوچا ہے۔یہ بڑی خطرناک صورت حال ہے کہ ہمار پاس ریڈ کراس کے ادارے کی طرف سے کوئی کور یا تحفظ بھی نہیں ہے۔ مگر اس کے بغیر کوئی اور آپشن ہی نہیں ہے۔


اینستھیزیا اور جراثیم کش ادویات کے بغیر غزہ کی خواتین کے سی سیکشنز اور ایمرجنسی سرجری

غزہ، 15نومبر (اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم (این جی او) ایکشن ایڈ نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں ہزاروں خواتین بچے کی پیدائش کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور بغیر جراثیم کش، اینستھیزیا یا درد کش ادویات کے سیزرین اور ہنگامی سرجری سے گذر رہی ہیں۔غزہ کے شمال میں واحد فعال اسپتال میں ڈاکٹروں نے ہفتے کے آخر میں 16 سیزرین سیکشن کیے ہیں اور بے ہوشی جیسی اہم طبی سامان کی کمی کے باوجود روزانہ 18 سے 20 بچوں کو پیدائش دی ہے۔اس ماہ کے شروع میں اقوامِ متحدہ کے جنسی اور تولیدی صحت کے ادارے یو این ایف پی اے نے بتایا کہ اس وقت غزہ میں 50,000 حاملہ خواتین موجود ہیں۔ایجنسی کے ایک اندازے کے مطابق آئندہ مہینے میں 5,500 بچے پیدا ہونے والے ہیں جن کی کل تعداد یومیہ 160 سے زیادہ ہے۔العودہ اسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر نے ایک صوتی پیغام میں ایکشن ایڈ کو بتایا کہ ہم شمالی علاقے میں زچگی کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔آج ہمیں غزہ شہر سے کئی حاملہ خواتین مریض موصول ہوئیں کیونکہ وہاں اسپتال بند ہیں۔ہم نے العودہ اسپتال میں آج 16 سیزرین سیکشنز انجام دیئے۔

اب ہم ہر 24 گھنٹے میں تقریباً 18-20 نوزائیدہ بچوں کی پیدائش کروا رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ تعداد اگلے دنوں میں بڑھے گی کیونکہ لوگ غزہ شہر سے العودہ اسپتال آئیں گے۔12 نومبر 2023 کو رائٹرز کی حاصل کردہ ویڈیو سے لی گئی اس تصویر میں شمالی غزہ کی پٹی میں انڈونیشیئن اسپتال میں ایندھن اور بجلی ختم ہو جانے کے بعد ایک سال سے کم عمر فلسطینی بچے موصاب صبیح کو بچانے کی کوشش میں طبی کارکنان ایک دستی ریسیسیٹیٹر کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ بچہ اپنے گھر پر اسرائیلی حملے میں زخمی ہو گیا تھا۔ایڈووکیسی اینڈ کمیونی کیشن فار ایکشن ایڈ فلسطین کے کوآرڈینیٹر ریحام جعفری نے کہاکہ غزہ میں ہزاروں خواتین بچے کی پیدائش کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور بغیر جراثیم کش، اینستھیزیا یا درد کش ادویات کے سیزرین اور ہنگامی سرجری سے گذر رہی ہیں۔ یہ خواتین صحت کی معیاری نگہداشت اور محفوظ جگہ پر پیدائش دینے کے حق کی مستحق ہیں۔ اس کے بجائے وہ اپنے بچوں کو مکمل جہنم جیسے حالات میں دنیا میں لانے پر مجبور ہو رہی ہیں۔


غزہ کے اسپتال میں 36 نومولود بچے خطرے میں، منتقلی کا نظام نہیں

غزہ، 15نومبر(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ کے الشفا اسپتال میں موجود عملے نے کہا ہے اس وقت وہاں 36 بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے طبی عملے کے حوالے سے منگل کو بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے انکوبیٹرز کی پیشکش کے باوجود ان بچوں کو منتقل کرنے کا کوئی واضح اور قابلِ عمل نظام موجود نہیں ہے۔حماس کی جانب سے گزشتہ ماہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر کیے جانے والے حملوں کے بعد سے غزہ کی پٹی مکمل طور پر اسرائیلی محاصرے میں ہے۔اسرائیلی فورسز غزہ کے پٹی کے شمالی حصے میں واقع الشفا اسپتال کے آس پاس گلیوں میں بھی لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس وقت اسپتال میں عام مریضوں کے بیڈز پر 36 بچے ایسے موجود ہیں جن کا وزن ڈیڑھ کلو گرام ہے جبکہ چند ایک کا وزن تو صرف 700 سے 800 گرام ہے۔ اسپتال میں درجہ حرارت اور نمی کو کنٹرول کرنے کا کوئی نظام نہ ہونے کی وجہ سے ان بچوں کو انفیکشن کا خطرہ بھی ہے۔

الشفا اسپتال کے ایک سرجن ڈاکٹر احمد المختللی نے روئٹرز کو بتایا کہ ’خوش قسمتی سے ان بچوں کی تعداد 36 ہے اور ہم نے گزشتہ شب ان میں سے کسی کو نہیں کھویا۔ لیکن خطرہ بہت زیادہ ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں ہم انہیں کھو نہ دیں۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے منگل ہی کو کہا ہے کہ وہ بچوں کو اسپتال سے منتقل کرنے کے لیے انکوبیٹرز مہیا کرنے کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر بھی پوسٹ کی جس میں ایک فوجی کو وین میں سے انکوبیٹر اتارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک اور ویڈیو میں فلسطین کے سویلین امور سے متعلق اسرائیلی ترجمان شانی سیسن دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ وین کے سامنے کھڑے ہو کر مدد کی پیشکش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پوری کوشش کر رہے کہ یہ انکوبیٹرز بغیر کسی تاخیر کے غزہ میں موجود بچوں تک پہنچائے جاسکیں۔

ان کوششوں میں شامل اسرائیل کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ اسرائیل کے اسپتالوں میں دستیاب تین انکوبیٹرز فراہم کیے گئے ہیں۔اسرائیلی عہدے دار نے مزید کہا کہ ہماری کوشش کی ہے نوزائیدہ بچوں کی محفوظ منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔ ہماری معلومات کے مطابق الشفا اسپتال کے پاس بچوں کو منتقل کرنے کے لیے درکار انکوبیٹرز نہیں ہیں۔غزہ کے الشفا اسپتال کے اردگرد فضائی حملوں اور لڑائی کے ماحول میں انکوبیٹرز وہاں تک کیسے پہنچائے جائیں گے، اس بارے میں اسرائیلی فوج نے کوئی واضح طریقہ نہیں بتایا۔غزہ کی وزارت صحت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ میں بچوں کو منتقل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اس کا کوئی طریق کار نہیں ہے۔


غزہ میں پارلیمنٹ اور حکومتی اداروں پر قبضہ کر لیا ہے، اسرائیلی فوج کا اعلان

مقبوضہ بیت المقدس، 15نومبر (اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے غزہ میں فلسطینی پارلیمنٹ اور حماس کے زیر انتظام دیگر حکومتی اداروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اپنے قبضے کے اس اعلان کو غزہ میں اپنی جارحیت کو مزید گہرا ہونے سے تعبیر کیا ہے۔اسرائیلی فوج کے جاری کردہ بیان کے مطابق فوجی دستوں نے حماس کی پارلیمنٹ، حکومتی عمارات، پولیس ہیڈ کوارٹرز اور انجینئرنگ فیکلٹی جو اسلحہ سازی کے ادارے کے طور پر کام کرتا ہے پر قبضہ کر لیا ہے۔اس قبضے تک پہنچنے کے لیے راستوں میں مزاحمت ہوئی یا نہیں اسرائیلی فوج نے ابھی اس بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔ نہ ہی یہ بیان میں ظاہر کیا ہے کہ فریقین کا کوئی جانی نقصان بھی ہوا ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button