جذباتی ذہانت کو پروان چڑھانا
جذباتی ذہانت کی نشوونما اور بچے میں ہمدردی کے تصور کو تقویت دینا تربیت کے سب سے اہم اصولوں میں سے ایک ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بچہ خود کو دوسروں کی جگہ رکھ کر ان کے جذبات کو محسوس کرے۔ اختلاف رائے کی صورت میں بچے کو اپنے جذبات پر قابو پانے کی صلاحیت ہونی چاہیے، جبکہ کسی اچھی رائے یا کامیابی پر اپنے دوست کی حوصلہ افزائی کرے اور اس کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔
آمرانہ تربیت
سخت گیر والدین عام طور پر بچوں پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہیں اور ان کے ساتھ بات چیت بہت کم کرتے ہیں۔ ماہرین ایسے والدین کو بچوں کی کم دیکھ بھال کرنے والے والدین میں شمار کرتے ہیں۔ وہ بچوں سے بہت زیادہ توقعات رکھتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ برتاؤ میں نرمی نہیں برتتے، جس کی وجہ سے بچوں میں جذباتی دباؤ اور خود اعتمادی کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔
نرمی کے ساتھ تربیت
اس طریقے میں والدین اپنے بچوں کو رہنمائی اور ہدایات فراہم کرتے ہوئے چھوٹے فیصلے خود کرنے کی آزادی دیتے ہیں۔ ماہرین ایسے والدین کو بچوں کا دوست تصور کرتے ہیں، کیونکہ ان کے اور بچوں کے درمیان بات چیت کا ماحول کھلا ہوتا ہے۔ وہ بچوں کو اپنی ترجیحات متعین کرنے اور فیصلہ سازی میں شمولیت کا موقع دیتے ہیں، جس سے بچے میں خود مختاری پیدا ہوتی ہے۔
بغیر شراکت کے تربیت
اس انداز میں والدین بچوں کو مکمل آزادی دیتے ہیں اور بہت کم مداخلت کرتے ہیں۔ بعض اوقات، وہ اہم فیصلوں میں شامل ہو جاتے ہیں، لیکن اکثر وہ بچوں کے انتخاب اور فیصلوں میں دخل نہیں دیتے۔ ایسے والدین تربیت کے مؤثر طریقوں سے ناواقف ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے بچوں میں نظم و ضبط اور خوداعتمادی کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس طریقے میں والدین اور بچوں کے درمیان بات چیت کا فقدان عام ہوتا ہے۔
باضابطہ یا قابل اعتماد تربیت
اس طریقے میں والدین منطقی سوچ اور بچوں کی بھرپور دیکھ بھال کے ساتھ تربیت کے بہترین اصول اپناتے ہیں۔ ان کے بچے خود اعتمادی، نظم و ضبط اور غور و فکر کی صلاحیت میں دیگر بچوں سے ممتاز ہوتے ہیں۔ ایسے والدین بچوں سے معقول توقعات رکھتے ہیں اور اہداف واضح طور پر طے کرتے ہیں، جس سے بچوں کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد ملتی ہے۔



