سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

برباد ہوا، آباد ہوا-محمد حمید شاہد

محبت اور عشق جیسے جذبے بھی خالص نہ رہے ۔

حمید شاہد کی خود نوشت ’خوشبو کی دیوار کے پیچھے‘سےمقتبس؛ سائنسدانوں نے ہمیں محبت کے ہارمون کی خبر دی ہے۔ اس ہارمون کا نام ‘آکسی ٹوسین’ہے۔ جسے ہم ماں کی ممتا سمجھتے رہے اب پتہ چلا کہ یہ تو وہ ہارمون ہے جو ماؤں کے اندر زچگی اور بچوں کو دودھ پلانے کےعمل کے دوران خارج ہوتا ہے۔ ایک اور تحقیق بھی سامنے آئی ہے جس کے مطابق محبت کا یہ ہارمون اگر کسی کو سونگھایا جائے تو اس کے اندر جھوٹ بولنے کا رجحان بڑھ جاتا ہے؛ ہت تیرے کی۔

ایک کے بعد دوسری عورت گھر لے آنا، گاؤں بھر میں پہلے پہل تو یہی سمجھا گیا تھا کہ اولاد کی خاطر تھا۔ یوں یہ فعل قابل قبول ہوگیا تھا۔ ہر کہیں سے جواز آتا ، بے چارہ کیا کرتا اولاد جو نہیں ہو رہی تھی۔ ایسا بالعموم گاؤں کی بڑی بوڑھیاں کہتیں ۔ گویا اولاد نہ ہونے میں سارا قصور ہماری سابقہ ممانیوں کا تھا۔چٹھل ہونے کے بعد ایسی عورتوں کی زندگی اور تلخ ہو جاتی تھی انہیں بنجر اور بے آباد زمیں کی طرح سمجھا جانے لگتا۔ مرد وں کے لیے سارے راستے کھلے رہتے ۔ سو، ماموں کے لیے بھی کھلے رہے۔ماموں سب رکاوٹوں کو پھاند کر وہ آخری والی عورت لے آئے، جس سے انہوں نے نباہ کرنا تھا ۔ اس عورت سے انہوں نے ایسا نباہ کیا کہ حق ادا کر دیا ۔ جو میں نے اِدھر اُدھر سے سنا وہ یہی تھا کہ اس آخری والی عورت سے انہیں’ظالم عشق’ ہوا تھا۔ظالم عشق… گویا عشق اور محبت کے جذبے بھی ظالم اور مظلوم ہوسکتے تھے ۔ یہ جذبے ظالم اور مظلوم ہوتے ہیں یا نہیں میں نہیں جانتا ۔ جانتا ہوں تو بس اتنا کہ جسے یہ جذبے عطا ہو جائیں وہ دوسروں سے مختلف ہو جاتا ہے۔ نیویارک کے البرٹ آئن اسٹائن میڈیکل کالج میں جب محبت میں گرفتار طالبعلموں کے دماغوں کا اسکین کرنے کے بعد تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ محبت کرنے سے دماغ کا وہی نظام متحرک ہوتا ہے جو کوکین لینے پر ہوتا ہے۔

لیجیے ہم جسے دِل کا معاملہ سمجھتے رہے سائنسدانوں نے اسے دماغ کی شرارت کہہ دیا اور وہ جو جذبہ ہو کر محترم تھا کوکین کے نشے جیسا ٹھہرا ۔ یہ جو محبت کرنے والوں اور عاشقوں کے حصے میں مسرت اور فرحت جیسی دولت آتی ہے، امریکہ کی اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں سائنسدانوں نے اس کا بھی تجزیہ کیا ہے اور نتیجہ اخذ کیا ہے کہ محبت اور عشق کے عمل میں دماغ کے وہی حصے تسکین پاتے ہیں جو کسی درد کی گولی کا ہدف ہواکرتے ہیں۔

یہاں بھی اعصابی طور پر درد کو روکنے والے عصبی خلیے ہی حرکت میں آتے ہیں۔ جب سے اس نوع کی معلومات انٹر نیٹ کی وساطت سے عام ہوئی ہیں ہمارا محبت اور عشق سے ایمان اٹھنے لگا ہے حالاں کہ ہمارے اپنے مرزا نوشہ بہت پہلے بتا گئے تھے ؛کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا۔

سائنسدانوں نے ہمیں محبت کے ہارمون کی خبر دی ہے۔ اس ہارمون کا نام ‘آکسی ٹوسین’ہے۔ جسے ہم ماں کی ممتا سمجھتے رہے اب پتہ چلا کہ یہ تو وہ ہارمون ہے جو ماؤں کے اندر زچگی اور بچوں کو دودھ پلانے کےعمل کے دوران خارج ہوتا ہے۔ ایک اور تحقیق بھی سامنے آئی ہے جس کے مطابق محبت کا یہ ہارمون اگر کسی کو سونگھایا جائے تو اس کے اندر جھوٹ بولنے کا رجحان بڑھ جاتا ہے؛ ہت تیرے کی۔

محبت اور عشق جیسے جذبے بھی خالص نہ رہے ۔

ظاہر ہے جھوٹ بولنے کی بڑھی ہوئی صلاحیت کا استعمال اپنے محبوب اور معشوق پر ہی کیا جاتا ہوگا ۔ اسرائیل کی بن گوریان یونیورسٹی کے شاؤل شالوی نے جب یہ جاننا چاہا کہ لوگ محبت اور عشق میں کس حد تک جا سکتے ہیں تو سماجی اخلاقیات کے آگے سوالیہ نشان لگا دیا تھا ۔اس کی تحقیق کا یہ نتیجہ سامنے آیاتھا کہ عاشقوں کے نزدیک اچھے اور مسلمہ اخلاقی معیارات لائق اعتنا نہ رہتے تھے ۔ ماموں جان بھی، جب تک آخری والی عورت حاصل نہ کر چکے، سماجی اخلاقی معیاروں کے آگے سوالیہ نشان لگاتے رہے تھے۔

خیر ، یہ عشق ہو یا محبت اگر یہ پر جوش خوشی اور ناقابل بیاں مسرت عطا کرنے کا وسیلہ نہ ہوتے تو کوئی ان کا گرفتار ہی کیوں ہوتا ۔ سائنس جس طرح کے چاہے تجزیے کرے انسان ان جذبوں سے جڑتا ہے، جڑا رہنا چاہتا ہے اور یہیں سے قوت کشید کرکے زندگی کو رہنے کے قابل بناتا ہے۔گابرئیل گارسیا مارکیز نے کہیں لکھا تھا کہ محبت کرنے کی اہلیت سے محرومی سے بڑھ کر کوئی اور اِنسانی اِبتلا نہیں ہو سکتی۔ جب ماموں کی زندگی میں ٹھہراؤ آگیا تو وہ اس ابتلا سے نکل گئے جو ان کی زندگی تلخ بنائے ہوئے تھے۔یوں لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب سے تلخ یادوں کے اوراق پھاڑ کر جلا ڈالے تھے۔اس آخری بیوی سے بھی ان کی اولاد ہوئی؛ جو ان کی بیوی کی طرح فرماں بردار اور ان سے محبت کرنے والی ہے۔ اگرچہ اب وہ چلنے پھرنے سے معذور ہیں اور وہیل چیئر پر آگئے ہیں مگران کی شخصیت کا رعب ابھی تک ویسا ہی ہے جیسا جوانی میں تھا۔ اب بھی انہیں وہی سماجی مرتبہ حاصل ہے، گاؤں میں جس کا حصول کسی بھی شخص کی حسرت ہو سکتی تھی۔

نانی جان جو معذور ہو چکی تھیں وہ اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ ماموں اور نئی ممانی کے ہاں اولادیں ہوئیں اور اُن کی زندگی ایک ڈھب پر آگئی تھی مگر ہم جو ان سے دور ہو گئے تھے لگتا تھا ان کے حافظے سے بھی محو ہوتے جا رہے تھے۔ ایسا محض ایک طرف سے نہیں ہوا ، دونوں طرف سے ہو رہا تھا؛ ماموں کی طرف سے اور امی جان کی طرف سے بھی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ امی جان مطلقہ اور تینوں بچوں کو تب ہی اپنے گھر لے آئی تھیں جب وہ گھر بدر ہوئے تھے ۔ وہ سمجھتی تھیں کہ بچوں پر اور اس عورت پر بہت ظلم ہوا تھا ۔ وہ اپنے بھائی کی بہ جائے اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی تھیں ۔اب ہماری سابقہ ممانی اور اس کے بچے ایک مضبوط پناہ میں تھے۔جب اس کی شادی ہمارے ماموں سے ہوئی تھی تو کچھ شرائط نکاح نامے میں لکھوائی گئی تھیں؛ اس پناہ میں آکر اس عورت نےانہی کا سہارا لیا اور بات کورٹ کچہری لے گئیں۔ عورت کا حوصلہ بڑھ گیا تھا، اتنا کہ وہ امی جان کے سامنے اُن کے بھائی کو کوستی اور بد دعائیں دیتی رہتی تھیں ۔

مجھے یہ بات ازحد تکلیف دیتی مگرامی جان نے ایک چپ سادھ رکھی تھی ۔ انہوں نے اپنے بھائی کے بچوں ساتھ اس درجے کا حسن سلوک کیا کہ ہم ان کی قسمت پر رشک کرتے تھے۔ہمارے سامنے کھانا رکھنے سے پہلے انہیں دِیا جاتا۔ جو ہمارے لیے پسند کرتیں وہ بھی حقدار ٹھہرتے اور اگر ہم کہیں شکایت کرتے تو کہتیں کہ’خدا کسی دشمن کے بچوں کو بھی ایسے وقت سے نہ گزارے جو ان پر بیت رہا ہے۔ یہ بچے باپ کے ہوتے ہوئے بھی یتیم ہیں۔’یہ سب کچھ یوں ہو رہا تھا کہ بہن بھائی کے درمیان فاصلے بڑھ گئے اور ہمارا اپنے گاؤں چکی جانا بالکل چھوٹ گیا تھا۔

ماموں نے اپنی بہن کو کئی پیغام بھجوائے کہ وہ اُن کی مطلقہ کی پشت پناہی چھوڑ دیں ۔ انہیں یقین ہو چلا تھا کہ اگر امی جان پیچھے ہٹ گئیں تو وہ صورت حال سے نمٹ سکتے تھے ۔ امی جان ایسا کرنے کو تیار نہ ہوئیں ۔ کہتیں ؛ جو حق اللہ رسول نے اس عورت کو دِے رکھا ہے وہ اُسے حاصل کرنے سے کیسے روک دیں۔ ہمارے گھر میں کوئی اس بابت بات کرتا نہ کرتا ایک تناؤ کی سی کیفیت رہتی۔ یہ تنا ؤ کئی برس تک رہا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button