تلنگانہ کی خبریں

مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کا احتجاج خدمات جاری رکھیں گے ، تنخواہ تیسری ایجنسی سے نہیں لیں گے ، کنٹراکٹ ملازمت سے ہٹانے پر ناراضگی

حیدرآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مکہ مسجد و شاہی مسجد باغ عامہ کے ملازمین نے کنٹراکٹ ملازمین کے زمرہ سے نکال کر انہیں عارضی ملازمین کے زمرہ میں ڈال دیئے جانے پر بطور احتجاج اپنی تنخواہیں حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مکہ مسجد و شاہی مسجد میں برسرخدمت عملہ نے متفقہ طور پر کئے گئے اپنے اس فیصلہ سے ضلع اقلیتی بہبود عہدیدار کو واقف کروادیا ہے۔

ریاستی حکومت کے محکمہ فینانس کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق ریاستی حکومت نے دونوں مساجد میں خدما ت انجام دینے والے عملہ کی خدمات کو برخواست کرتے ہوئے انہیں ایجنسی کے ذریعہ تقرر کے احکامات جاری کئے تھے اور اب ان کی تنخواہیں محکمہ کے بجائے تیسری ایجنسی کے ذریعہ عمل میں لائی جائے گی جس پر ناراض عملہ نے تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت تلنگانہ ایک جانب سے 11ہزار سے زائد کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بناتے ہوئے انہیں مستقل کرنے کے اعلانات کر رہی ہے اور دوسری جانب سے مکہ مسجد اور شاہی مسجد میں موجود 30ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے بجائے ان کی خدمات کو ایجنسی کے ذریعہ حاصل کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جو کہ حکومت کی ان مساجد کے ملازمین کے تئیں بے اعتنائی اور عدم دلچسپی کا ثبوت ہے۔

ریاستی محکمہ فینانس کے ذرائع کے مطابق یکم نومبر کو محکمہ فینانس نے تمام 30ملازمین کی خدمات کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط کی تیاری اور دیگر ضروری اقدامات کے ساتھ رپورٹ روانہ کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی جانب سے اختیار کردہ لاپرواہی کے رویہ کے سبب یہ رپورٹ روانہ نہیں کی گئی اور متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود محکمہ فینانس کو جواب موصول نہ ہونے پر ان تمام کی خدمات کو ایجنسی کے حوالہ کردیا گیا ہے۔

بتایاجاتا ہے کہ دونوں تاریخی مساجد کے عملہ نے عہدیداروں پر واضح کردیا ہے کہ وہ خدمات انجام دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے لیکن تنخواہیں حاصل نہیں کریں گے کیونکہ اگر ایجنسی کے ذریعہ تنخواہیں ایصال کی جاتی ہیں تو ایسی صورت میں انہیں تقررات کا عمل دوبارہ انجام دینا پڑے گا جبکہ بیشتر تمام ملازمین برسوں سے ان مساجد میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی اجلاس کے دوران مجلسی رکن اسمبلی سید احمد پاشاہ قادری کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کا جوان دیتے ہوئے ان تمام ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے اور مستقل کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود عہدیداروں کی جانب سے ان کی خدمات کو ختم کیا جانا دونوں مساجد میں خدمات انجام دینے والے عملہ کے ساتھ متعصبانہ رویہ کی علامت ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button