سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

مرگی Epilepsy ایک دماغی بیماری ہے، طبی ماہرین

مرگی کے دوروں، وجوہات اور علاج سے متعلق معلوماتی مضمون

مرگی کیا ہے؟

مرگی Epilepsy ایک دماغی بیماری ہے جو دنیا بھر میں سب سے عام شدید اعصابی امراض میں سے ایک ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق تقریباً 5 کروڑ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔
مرگی میں مبتلا شخص کو بار بار دورے پڑتے ہیں، جو دماغ میں پیدا ہونے والے برقی انتشار (electrical disturbance) کے نتیجے میں ہوتے ہیں۔

⚡ مرگی کیسے ہوتی ہے؟

ہر انسان کے دماغ میں برقی سگنلز موجود ہوتے ہیں جو دماغ کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔
جب یہ نظام central nervous system میں کسی خرابی کے باعث بگڑ جاتا ہے تو دماغ میں الیکٹریکل سرگرمی کا جھٹکا پیدا ہوتا ہے جس سے مرگی کا دورہ پڑتا ہے۔

یہ جھٹکا دماغ کے عام افعال میں عارضی خلل ڈال دیتا ہے، جس سے مریض کو اکڑاؤ، جھٹکے، بے ہوشی یا غیر معمولی حرکات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


🧬 مرگی کی وجوہات

مرگی کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • فالج (Stroke)

  • دماغی انفیکشن جیسے کہ سرسام (Meningitis)

  • شدید دماغی چوٹ

  • پیدائش کے وقت آکسیجن کی کمی

  • موروثی (Genetic) عوامل

کچھ افراد میں مرگی وراثت کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتی ہے۔ سائنسدان اس پر تحقیق کر رہے ہیں کہ جینیاتی طور پر مرگی کس طرح منتقل ہوتی ہے۔


🧠 مرگی کی اقسام

مرگی کے دوروں کی کئی اقسام ہیں:

  1. فوکل (Focal) مرگی: مریض کو ہوش ہوتا ہے اور وہ اردگرد کے حالات محسوس کرتا ہے۔

  2. جنرلائزڈ (Generalized) مرگی: مریض ہوش کھو دیتا ہے، جسم میں جھٹکے آتے ہیں، یا وہ گر سکتا ہے۔

کبھی کبھی دورے چند سیکنڈ تک رہتے ہیں، جب کہ بعض اوقات کئی منٹ تک جاری رہ سکتے ہیں۔


🔬 مرگی کی تشخیص

اگر کسی شخص کو ایک سے زیادہ بار دورے پڑیں تو نیورولوجسٹ (Neurologist) سے رجوع ضروری ہے۔
تشخیص کے لیے یہ ٹیسٹ کیے جاتے ہیں:

  • EEG (Electroencephalogram): دماغی لہروں کی ریکارڈنگ

  • MRI یا CT اسکین: دماغ میں ساختی تبدیلیوں کا جائزہ

  • خون کے ٹیسٹ: ممکنہ وجوہات جاننے کے لیے

ان ٹیسٹوں سے ڈاکٹر فیصلہ کرتے ہیں کہ مریض کو مرگی ہے یا نہیں، اور اگر ہے تو کس نوعیت کی۔


💊 مرگی کا علاج

مرگی کا بنیادی علاج ادویات (Antiepileptic Drugs – AEDs) کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
یہ دوائیاں مرگی کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتیں، مگر دوروں کو کنٹرول میں رکھتی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق مرگی میں مبتلا 10 میں سے 7 مریض مناسب علاج سے معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔

اگر کسی دوا سے فائدہ نہ ہو تو ڈاکٹر دوسری دوا تجویز کر سکتا ہے۔
کچھ مخصوص کیسز میں:

  • سرجری (Surgery)

  • خصوصی غذائیں (Ketogenic diet)
    بھی مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔


🧘 مریض کے لیے مشورہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ مرگی کے مریض اور ان کے نگہداشت کنندگان کو چاہیے کہ وہ سوال پوچھنے سے نہ جھجکیں۔بروقت معلومات حاصل کرنا اور علاج پر عمل کرنا اس مرض پر قابو پانے کا بہترین طریقہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button