
لندن :(ایجنسیاں) باٹا میں ہونے والے دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ابتدائی اندازوں کے مقابلے تین گنا سے زیادہ ہو گئی ہے۔ صدر نے لاپرواہی کو ان دھماکوں کا سبب قرار دیا اور واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔وسطی افریقہ کے ملک استوائی گنی میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں سے اب تک کم از کم 100 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ وزارت صحت نے پیر کے روز بتایا کہ رضا کار ملبے میں دبی لاشوں کی تلاش کر رہے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
⚠️Datos de la emergencia sanitaria en Bata:
🔵 615 heridos:
– 316 dados de alta
– 299 permanecen ingresados en Hospital Regional de Bata, Centro Médico la Paz y Policlínico Guinea Salud
🔵Cifra oficial de fallecidos:
– 98 fallecidos reportados hasta ahora
Fuente: @La_Vice_Press pic.twitter.com/03ADU4peOH— Guinea Salud (@GuineaSalud) March 8, 2021
ساحلی شہر باٹا میں اتوار کے روز ایک ملٹری کمپلکس میں ہونے والے دھماکوں میں ابتدا میں 31 افراد کی ہلاکت کا اندازہ لگایا گیا تھا تاہم ہلاک ہونے والوں کی تازہ ترین تعداد اندازے سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں سویلین اور فوجی دونوں شامل ہیں۔ وزارت صحت نے ملکی نائب صدر کے دفتر کے ایک بیان کے حوالے سے بتایا کہ دھماکوں میں کم از کم 615 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے 299 اب بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
ٹی وی جی ای ٹیلی ویزن کی طرف سے نشر کردہ خبروں میں نائب صدر ٹیوڈورو نیگوما اوبینگ مانگوے کو باٹا کے ایک ہسپتال میں جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جہاں دھماکے سے متاثرین کا علاج چل رہا ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹوں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ امدادی کارکنان کنکریٹ اور لوہے کی دیواروں اور چھتوں کے ملبے تلے سے بچوں کو نکال رہے ہیں جبکہ چادروں میں لپٹی ہوئی لاشیں سڑک کے کنارے پڑی ہوئی ہیں۔
وزارت صحت نے آج منگل کی صبح ایک ٹوئٹ کر کے بتایا کہ باٹا میں دھماکے کے متاثرین کی مدد کے لیے ماہرین نفسیات، ذہنی امراض کے ماہرین اور نرسوں پر مشتمل مینٹل ہیلتھ بریگیڈتیار کی جا رہی ہے۔
Una oración al señor por los desatres que estamos viviendo en el mundo y en Guinea Ecuatorial en particular. Que Dios haga su voluntad. Felicito a los sanitarios por salvar tantas vidas en la pandemia y ahora en la tragedia por la explosión. pic.twitter.com/iHaMhuixzl
— Milagrosa OBONO ANGUE (@ObonoAngue) March 8, 2021
وزارت صحت نے مزید بتا یا کہ ان دھماکوں کی وجہ سے صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی نقصانات بھی ہوئے ہیں۔
وسطی افریقہ کے سب سے بڑے شہر اور اہم تجارتی مرکز باٹا میں اتوار کے روز چار دھماکے ہوئے جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ پہلا دھماکہ مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر میں واقع نکونٹوما فوجی اڈے میں ہتھیاروں کے ڈپو میں آگ لگ گئی جو دھماکوں کا سبب بنی۔ نائب صدر کے والد اور صدر ٹیوڈورو اوبینگ نیگوما نے ڈائنامائٹ کو رکھنے میں ‘لاپرواہی اور بے توجہی‘ کو ان دھماکوں کا سبب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد کے ڈپو میں اس وقت آگ لگ گئی جب قریب واقع کھیتوں میں کچھ لوگوں نے آگ جلائی۔ اس آگ کی لپٹیں ڈپو تک پہنچ گئیں۔انہوں نے کہا کہ دھماکے سے قریب واقع تمام مکانات اور باٹا میں عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حادثے کی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے اور قصورو اروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
دو لاکھ آبادی والے اس شہر میں ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے ہیں اور حکام نے لوگوں سے خون کا عطیہ دینے کی اپیلیں کی ہی۔ سابق ہسپانوی نوآبادی استوائی گنی پر سن 1979سے اوبینگ نیگوما کی حکومت ہے اور وہ اس وقت افریقہ میں سب سے زیادہ مدت تک عہدے پر فائز رہنے والے صدر ہیں۔ تیل سے ہونے والی آمدنی پر منحصر یہ ملک اس وقت اقتصادی مسائل سے دو چار ہے۔
کورونا وائرس اور خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کی وجہ سے اس کی معیشت پر دوہری مار پڑی ہے۔دریں اثنا ہسپانوی وزیر خارجہ نے ایک ٹوئٹ میں کہا ’’باٹا میں ہلاکت خیز دھماکوں کے مد نظر اسپین فوری انسانی امداد روانہ کر رہا ہے۔



