بین الاقوامی خبریں

ایتھوپیا: تیگرائی میں لاکھوں افراد قحط سالی کا شکار

جنیوا،۱۱؍جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق ایتھوپیا کے صوبے تیگرائی میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد کو شدید فاقہ کشی کا خطرہ لاحق ہے۔اقوام متحدہ نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ساڑھے پچاس لاکھ کی آبادی پر مشتمل ایتھوپیا کے صوبے تیگرائی کی بیشتر آبادی کو غذائی امداد کی اشد ضرورت کا سامنا ہے۔ اس کے مطابق فی الوقت خطے کے ساڑھے تین لاکھ سے بھی زیادہ افراد قحط اور فاقہ کشی کے شدید خطرات سے دو چار ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے مطابق تیگرائی کا موجودہ غذائی بحران صومالیہ میں سن 2010 اور 2012 کے درمیان قحط سالی سے بھی زیادہ سنگین ہے۔جب تقریباً ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو گئے تھے جس میں سے نصف سے زیادہ بچے تھے۔انسانی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے سربراہ مارک لوکاک نے اس حوالے سے جی سیون کے نمائندوں کی ایک اعلی ورچول میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیگرائی میں اس وقت قحط کا ماحول ہے اور آنے والے دنوں میںصورت حال کے مزید خراب ہونے کے خدشہ ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ فوری امداد سے، بد ترین صورت حال سے بچا بھی جا سکتا ہے۔خوراک اور زاعت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے، ورلڈ فوڈ پروگرام اور یونیسیف نے جمعرات کے روز مشترکہ طور پر خبردار کیا کہ اگرفوری طور پر اقدامات نہیں کیے گئے تو مزید 20 لاکھ افراد بھوک سے مر سکتے ہیں۔لوکاک نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی بعض کلیدی ایجنسیاں مدد کرنا چاہتی ہیں تاہم ان کے پاس پیسہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ حقیقت میں ہم سبھی کو قدم آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہ ڈیوڈ بیسلے کا کہنا تھا کہ چونکہ خطے میں کئی علاقوں میں مسلح گروپ رسائی دینے سے منع کرتے ہیں اس لیے دیہی علاقوں کی دور دراز آبادیوں تک امداد نہیں پہنچ پاتی ہے۔

ایجنسیوں کاکہنا ہے کہ اگر انہیں ممنوعہ علاقوں تک رسائی مہیا کی جائے ،تو وہ امداد پہنچانے کے لیے تیار ہیں۔ ایتھوپیا کی حکومت نے صوبے تیگرائی میں سرگرم تیگرائی پیپلز لیبریشن فرنٹ کیخلاف گزشتہ نومبر میں فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ اس کی وجہ سے خطے میں تنازعہ بہت تیزی سے پیچیدہ صورت اختیار کر گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button